یمن میں حوثیوں کے زیرانتظام علاقوں میں ہیضے کی وبا،ہزاروں افراد متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے یمن میں ہیضے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی وبا پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک ہیضے کے 40,000 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں 160 ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ یہ وبا زیادہ تر حوثی ملیشیا کے زیرکنٹرول علاقوں میں پھیل رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارٹن گریفتھس نے گذشتہ پیر کو سلامتی کونسل کےاجلاس سے خطاب میں کہا کہ "ہم ہیضے کی وبا کے تیزی سے بگڑتے ہوئے کیسز ،چالیس ہزار متاثرین اور 160 سے زیادہ اموات کے بارے میں بہت فکر مند ہیں"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ زیادہ تر کیسز حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں سامنے آئے ہیں جہاں روزانہ سینکڑوں نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

دوری طرف اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اس مسئلے کےحل کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں، کیونکہ شدید بارشوں اور سیلاب سے معاملات مزید خراب ہونے کی توقع ہے۔

گریفتھس نے کہا کہ 2016 ءاور 2021ء کے درمیان پھیلنےوالی وباء کو یاد کرتے ہوئے صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہوگی، جس میں تقریباً چار ہزار افراد کی جانیں گئیں، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یمن کو شدید نوعیت کے اسہال اور ہیضے کے مشتبہ کیسز کی ایک نئی وبا کا سامنا ہے، جن میں سے زیادہ تر ملک کے شمال میں ہیں جہاں حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزانہ ریکارڈ کیے جانے والے مشتبہ کیسز کی تعداد کا تخمینہ 500 سے 1000 کے درمیان ہے۔ ہیلتھ ورکرز کا اندازہ کہ ستمبر 2024 تک کیسز کی کل تعداد 133,000 سے 255,000 تک پہنچ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں