جو بائیڈن کو 'مور ہاؤس' میں تقریر کے دوران سیاہ فام ووٹروں اور طلبہ کے مظاہرے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن کو اپنی اسرائیل نواز پالیسی کے باعث جنگ مخالف طلبہ تحریک سے خدشہ ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر میں ان کے خطاب کے دوران انہیں شرکاء کی طرف سے احتجاج اور نعروں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وہ شہری حقوق کے حوالے سے امریکی مایہ ناز شخصیت لوتھر کنگ کے نام سے منسوب یونیورسٹی میں سیاہ فام ووٹرز کو مخاطب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ ایسے انسانی حقوق کے حامی اور نسل پرستی کے مخالف ملک میں آج بھی سیاہ فام اور سفید فام کی تقسیم نام کی حد تک اس طرح بھی موجود ہے کہ امریکی صدر کے دفتر کو آج بھی 'وائٹ ہاؤس' کہا جاتا ہے۔ اس لیے ہر صدارتی مہم کے دوران جہاں سفید فام ووٹرز کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے صدارتی امیدواروں کو ان کی پسند کی پالیسیز کا حوالہ دینا پڑتا ہے وہیں سیاہ فام ووٹرز کی اہمیت کو بھی نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

امریکہ میں پچھلے کئی ماہ سے غزہ میں فلسطینی نسل کشی کے خلاف جاری طلبہ تحریک میں ان تمام طبقات کے نمائندہ لوگ بھی گرم جوشی سے حصہ لے رہے ہیں جو کسی وجہ سے بھی تعصب یا امتیاز کا شکار رہے ہیں یا انہیں خدشہ رہتا ہے۔ اس لیے امریکی سیاہ فام طلبہ کی اس تحریک میں حامی نظر آتے ہیں۔

اس صورتحال میں امریکی صدر جوبائیڈن اپنی انتخابی مہم کے دوران پہلی بار یونیورسٹی طلبہ کا سامنا کرنے آ رہے ہیں اور انہیں اس خدشے نے گھیرا ہوا ہے کہ ان کی تقریر کے دوران اسرائیلی جنگ کے مخالف طلبہ اور اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کے ناقدین مظاہرے کا اہتمام کر کے نعرہ بازی کر سکتے ہیں۔

'مور ہاؤس' کے طلبہ نے اس موقع پر کالج انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ جوبائیڈن کی تقریر اس لیے منسوخ کر دی جائے کہ وہ اسرائیلی جنگ کے حامی ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرین جین پیئر نے دو روز قبل جوبائیڈن کی متوقع تقریر کے بارے میں کہا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ صدر جوبائیڈن کا خطاب ایک متحرک آغاز کا باعث بنے گا۔

پریس سیکرٹری سے پوچھا گیا تھا کیا جوبائیڈن کی تقریر کے دوران خلل پڑنے کے پیش نظر کالج پرنسپل کو تقریب منسوخ کر دینی چاہیے۔ تو پریس سیکرٹری جین پیئر نے کہا 'وہ پر امن احتجاج کا خیر مقدم کریں گے۔ تاہم یہ 'مور ہاؤس' کو دیکھنا ہوگا کہ وہ اس موقع پر چیزوں کو کیسے سنبھالتے ہیں۔'

کولمبیا یونیورسٹی
کولمبیا یونیورسٹی

اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار اہلکار نے 'مور ہاؤس' میں طلبہ سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ جان سکیں کہ انہیں صدر جوبائیڈن کی تقریر پر کیوں اعتراض ہے۔ کیونکہ صدر جوبائیڈن اس جگہ کا انتخاب انسانی حقوق کی سربلندی کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے حوالے سے تقریر کی جگہ منتخب کی۔

خیال رہے مارٹن لوتھر کنگ خود بھی جنگوں کے مخالف تھے اور انہوں نے 1960 میں امریکہ کی ویت نام جنگ کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ صدر جوبائیڈن نے غزہ میں جنگ کے مخالف طلبہ کی تحریک کے بارے میں شروع میں خاموشی اختیار کیے رکھی لیکن بعد میں جب پولیس نے یونیورسٹی طلبہ کے کئی کیمپوں کو اکھاڑ دیا تو جوبائیڈن نے کہا 'قانون کی بالادستی ضروری ہے۔'

جوبائیڈن کی انتخابی جائزوں سے پریشانی

صدر جوبائیڈن کا اپنے ووٹرز کے ساتھ غزہ کی صورتحال کے باعث مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاہ فام اور نوجوان ووٹرز جنہوں نے 2020 میں ٹرمپ کو شکست دینے میں جوبائیڈن کی مدد کی تھی وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے مخالف ہیں۔

'مور ہاؤس کالج' میں صدر جوبائیڈن کی آمد کے موقع پر ان کے یہ سیاہ فام ووٹرز ان کے سامنے ہوں گے۔ جب یونیورسٹی کی 70ویں سالانہ تقریب جاری ہوگی۔ اس 'مور کالج' کو سپریم کورٹ کے 1954 کے فیصلے کی روشنی میں قائم کیا گیا تھا جس میں نسل پرستی کے خاتمے کا حکم دیا گیا تھا۔

پچھلے ہفتے 'نیو یارک ٹائمز' نے ایک سروے میں انتخابی میدان میں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی حمایت میں اضافہ کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ جبکہ صدر جوبائیڈن افریقن امیریکن ووٹرز کی حمایت کھو رہے ہیں۔ سروے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو 20 فیصد سے زیادہ سیاہ فام ووٹرز کی حمایت مل رہی ہے۔ یہ 1964 سے لے کر اب تک ری پیبلکنز امیدوار کے لیے سیاہ فاموں کی سب سے بڑی حمایت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں