ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے انقرہ میں ایک ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ناروے، آئرلینڈ اور اسپین کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر بہت خوش ہیں۔
ایردوآن نے مزید کہا کہ "ریاست فلسطین کو تسلیم کرنا اور غزہ میں قتل عام کو روکنا غیر ملکی رہ نماؤں کے ساتھ ہماری ملاقاتوں کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے"۔
ترک اناطولیہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق طیب ایردوآن نے کہا کہ غزہ میں7 اکتوبر سے پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے پچھلی صدی کی سب سے وحشیانہ نسل کشی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
جو لوگ اسرائیل کو لاجسٹک اور فوجی مدد فراہم کرتے ہیں وہ غزہ میں خونریزی کی اتنی ہی ذمہ دار ہیں جتنے خود اسرائیل ہےْ
حماس نے جنگ بندی کی پیشکش کو قبول کرنے کا اعلان کیا لیکن اسرائیل نے اپنا متضاد موقف جاری رکھا ہے۔
اسرائیلی حکومت اس سے مطمئن نہیں تھی اور اس نے شہریوں کی آخری پناہ گاہ رفح پر حملہ کرکے اپنے حقیقی ارادوں کا اظہار کردیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ جنگ روکنے کا خواہاں نہیں۔