اسرائیل نے کل جمعہ کے روز عالمی عدالت انصاف کی طرف سے جاری کردہ اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا جس میں اسرائیل سے رفح میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی فوری طور پر روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری طرف فلسطینیوں اور عرب ممالک نے عالمی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
تاہم تل ابیب ’آئی سی جے‘ کے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسرائیلی عہدیدار عدالت پر تنقید میں بڑھ چڑھ حصہ لے رہے ہیں۔
بین الاقوامی انصاف کے فیصلے کے بعد اسرائیلی برہم
اسرائیلی حکام نے کہا کہ رفح میں ان کی کارروائیاں "اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ" کے لیے جاری ہیں اور انہیں روکا نہیں جائے گا۔
نسلی دیوار
لیکن یہ فیصلہ جسے تاریخی قرار دیا گیا ہے اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ نہیں ہے۔ نو جولائی 2004 کو اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی عدالت نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی دیوار فاصل کے خلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسے روکنے اور تعمیر کردہ دیوار کو گرانے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ دیوار "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی" ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ دیوار کی تعمیر سے متاثر ہونے والے فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور مشرقی یروشلم اور اس کے نواحی علاقوں سمیت تمام فلسطینی علاقوں سے اس دیوار کو ختم کرے۔
عدالت نے واضح کیا تھا کہ "دیوار کے راستے کے نتیجے میں فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوجی حالات، یا قومی سلامتی یا امن عامہ کے تقاضوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا"۔
اس نے دنیا کے ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دیوار کی تعمیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ دیوار کی غیر قانونی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے دیگر اقدامات پر غور کریں۔
14 ووٹوں کی اکثریت
عدالت نے اس فیصلے پر امریکی جج تھامس برگینتھل کی جانب سے 14 ووٹوں کی اکثریت سے ووٹ دیا۔
تاہم کچھ بھی نہیں بدلا ہے اور وہ دیوار جسے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ارئیل شیرون کی حکومت نے 23 جون 2002 کو تعمیر کرنا شروع کیا تھا اب بھی گرین لائن کے قریب مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کے داخلے کو روکنے کے لیے موجود ہے اسرائیل اس دیوار کو اپنی بستیوں کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
اسرائیل عدالتی فیصلے کا پابند
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کل جمعہ کو کہا تھا کہ رفح کے بارے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عدالت کے آئین کے مطابق لازم ہے اور اسرائیل اس فیصلے پرعمل درآمد کا "پابندی" ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے حوالے سے عدالت کے فیصلوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجیں گے۔
سلامتی کونسل کے اندر فیصلے رائے شماری سے ہوتے ہیں۔ پانچ مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کو ویٹو پاور کا اختیار حاصل ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ حتمی فیصلہ اسرائیل کے اتحادیوں کا ہو گا جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے۔