شامیوں سے متعلق ترک وزیرصحت کے بیانات پر سوشل میڈیا میں ناراضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیہ کے وزیر صحت فخر الدین قوجہ کے بیانات نے ترکیہ میں پناہ گزینوں کے طور پر رہنے والے لاکھوں شامیوں کے حوالے سے اس وقت تنازع کھڑا کر دیا جب انہوں نے چند گھنٹے قبل مقامی میڈیا کے ذریعے رپورٹ کیے گئے بیانات میں انکشاف کیا کہ ان کی وزارت نے ترکیہ میں مقیم شامیوں کو بہت سی خدمات فراہم کی ہیں۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’’ suriyeli‘‘ ٹاپ پر آگیا۔ اس ہیش ٹیگ کا مطلب ترکیہ میں مقیم شامی شہری ہیں۔

بہت سے ترکوں نے "ایکس" پر لکھا کہ میڈیکل کیئر شامیوں کے لیے مفت ہے اور ترکوں کے لیے ادائیگی کی جاتی ہے۔ وزیر صحت کے ان بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نے ترکیہ کے ہسپتالوں میں 20 لاکھ 600 ہزار سرجیکل آپریشن ان شامیوں کے کئے ہیں جو ترکیہ میں پناہ گزین ہیں۔

کچھ ترکوں نے اپنے تبصروں میں وزیر صحت کو براہ راست نشانہ بنایا۔ ان میں سے کچھ صارفین نے شامی پناہ گزینوں کی تصاویر شائع کیں جن میں انہوں نے شامی بچوں کی تعداد پر بھی تنقید کی۔ ترکیہ کے ایک شہری نے ’’ایکس‘‘ پر ایک شامی پناہ گزین خاندان کی تصویر کے ساتھ اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ایک شامی خاندان کے 9 بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ جب میں ان گندے کاموں کے بارے میں سوچتا ہوں جو وہ ہمارے بچوں کے ساتھ کریں گے تو مجھے واقعی خوف آتا ہے۔

زیادہ تر ترکوں کے ٹویٹس میں شامیوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی تاہم بعض افراد نے پناہ گزینوں کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کیا آپ دوبارہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو ووٹ دیں گے کہ وہ ترکوں پر مہاجرین کو کس طرح ترجیح دیتی ہے۔ ایک ترک خاتون نے وزیر فخر الدین کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکیہ نہیں شام کے وزیر صحت ہیں۔

ترکی کے وزیر صحت فخرالدین قوجہ نے چند گھنٹے قبل اطلاع دی تھی کہ ان کے ملک میں 7 لاکھ 54 ہزار شامی بچے پیدا ہوئے ہیں۔ ان بچوں کی تاریخ پیدائش کا اندراج نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی وزارت نے شامیوں کو 97 ملین طبی خدمات فراہم کی ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق ترکیہ میں ساڑھے 3 ملین شامی مہاجرتین آباد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں