سویڈن کے جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کرنے کے الژامات
سویڈش ناظم الامور کی ایرانی وزارت خارجہ میں طلبی
سویڈن کے انٹیلی جنس ادارے کی طرف سےاسرائیلی خفیہ موساد کی مدد سے تیار کردہ رپورٹ میں ایران پر جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے الزام نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
جمعہ کے روز سویڈن کی طرف سے یہ الزام لگنے کے بعد ایران نے اتوار کے روز سویڈش کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے ان نفرت انگیز الزمات پر جواب طلب کیا ہے ۔
یاد رہے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کی رپورٹس کی مدد سے مرتب کردہ سویڈش ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے سویڈن کے وزیروں نے پریس کانفرنس کی تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ سویڈن کی انٹیلی جنس ایجنسی کے یہ کہنے کے بعد کہ ایران اسرائیل اور اس کے مفادات پر حملہ کرنے کے لیے سویڈن کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو استعمال کر رہا ہے۔ اس پر سویڈن سے جواب طلب کیا گیاہے۔
اس سلسلے میں سویڈش سفارت کار کو ایرانی وزارت خارجہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے مغربی یورپ کے اسسٹنٹ نے طلب کیا، بعد ازاں وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس طلبی کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔
واضح رہے ایرانی سفارت خانے نے سویڈش دارالحکومت سٹاک ہوم میں اس بارے میں جمعہ کے روز ہی بیان جاری کر کے سویڈش حکام کے الزام کی تردید کر دی تھی کہ تہران سویڈن میں اسرائیلی مفادات کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے کے لیے جرائم پیشہ گروہ کے ارکان کو' پراکسی' کے طور پر بھرتی کر رہا ہے۔
سویڈن کی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ' ایران سویڈن کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو استعمال کر کے سویڈن میں دوسری ریاستوں، گروہوں یا لوگوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں کر رہا ہے۔ اس لیے سویڈن ایران کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔'