وفات کی جھوٹی خبر شائع کرنے پرخاتون کا ’فیس بک‘ کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کی ایک خاتون نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ کے خلاف اپنی فوتگی کی جعلی خبر شائع کرنے پر مقدمے کی کارروائی شروع کی ہے۔

فیس بک کے خلاف کیس کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم نے اس کے اکاؤنٹ پر ’متوفیہ‘ کا ٹیگ لگا کر اس کی توہین کی اور اسے اور اس کےخاندان کو نفسیاتی اذیت دی ہے۔ خاتون کی اس خبر پر اس کے فالورز بھی حیران رہ گئے۔

ساندرا فارس جو فیشن اور سفر کے بارے میں مواد فراہم کرتی ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسے ہزاروں افراد فالو کررہے ہیں۔ وہ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جس میں اس نے کہا کہ وہ اپنے فیس بک پر "متوفیہ" بیج کی ظاہری شکل سے حیران رہ گئیں۔ جب وہ جہاز پر تھی اور ملک سے باہر سفر کر رہی تھیں تو فیس بک ان کے اکاؤنٹس پر’متوفیہ‘ کا ٹیگ لگا دیا۔

اس نے مزید کہا کہ وہ نہیں جانتی کہ فیس بک پر اس کی موت کا الزام لگانے والی دستاویز کس نے جمع کروائی، لیکن اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس نے کیا، یا کس نے جعلی رپورٹ جمع کروائی"۔

فارس نے بتایا کہ اس کے بعد اس کا خاندان گھبرا گیا، خاص طور پر چونکہ وہ پورے 4 گھنٹے ہوائی جہاز میں تھی، اور وہ اس سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔

بلیوٹک سے تصدیق شدہ

ساندرا فارس نے تصدیق کی کہ اس کا اکاؤنٹ نیلے رنگ کے نشان سے تصدیق شدہ ہے۔ فیس بک انتظامیہ کو یہ قدم اٹھانے سے پہلے اس کی "موت" کی تصدیق کرنی چاہیے تھی۔

اس نے فیس بک کو اس بڑی غلطی اور اسے پہنچنے والے نفسیاتی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ اپنے فالورز سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی ایک ویڈیو شائع کریں گے جس میں اس پلیٹ فارم پر مقدمہ کرنے کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فارس کے اکاؤنٹس کا وزٹ تو معلوم ہوا کہ "موت" کا بیج ابھی تک موجود ہے۔

جب کہ فارس نے اپنے ایک اور اکاؤنٹ پر مضحکہ خیز انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "فیس بک میں ابھی بھی زندہ ہوں اور ترقی کی منازل طے کر رہی ہوں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں