موریتانیہ:شادیوں میں اسراف سے خاندان پریشان،عجیب رسموں میں دلہن کا سیاہ لباس بھی شامل
موسم گرما کی آمد، اسکول کی تعطیلات اور تارکین وطن کی واپسی کے ساتھ موریتانیہ میں شادی کا سیزن شروع ہو جاتا ہے۔ خاندان کئی دہائیوں سے جاری رسم و رواج کے مطابق شادی کی تقریبات کا اہتمام کرنے کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو جمع کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تاہم پچھلے پانچ سالوں کے دوران موریطانیہ میں شادی کی پارٹیوں پر غلبہ پانے والی شوخی اور اسراف ایک دباؤ کا عنصر بن گیا ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور متوسط طبقے کے خاندانوں پریہ بوجھ گراں گذر رہا ہے۔
شادی والے خاندانوں میں اپنی مرضی کے مطابق ایک بہت بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں تمام خاندانوں، جاننے والوں اور قبائلی حلقوں کو موروثی رسم و رواج کے مطابق شامل کیا جاتا ہے، جن میں سے اکثر پر بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔
موریتانیہ میں شادی کے رواج مختلف ہیں جن میں سے کچھ قدیم زمانے سے وراثت میں ملے ہیں۔ ان میں سے کچھ نئے ہیں اور ان خاندانوں کے بجٹ پر اضافی دباؤ ڈالنے کا باعث ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو کسی چیزکو نظر انداز کرنے یا منسوخ کرنے پر تنقید کیے بغیر منانا چاہتے ہیں۔
شادی کے مراحل
روایتی شادی کے مراحل مختلف ہوتے ہیں۔ شادی سے کچھ دن پہلے ایک سرکاری منگنی کی تقریب سے شروع ہوتی ہے۔ یہ شادی کئی روایتی تقریبات پر مشتمل ہے۔ دلہن کی والدہ کی طرف سے خواتین کے لیے منعقد کی جانے والی "المقیل" تقریب اس کی ابتدائی تقریب سمجھی جاتی ہے۔ اس کےبعد "دخلہ" کی رسم کے ساتھ ی شادی آگے بڑھتی ہے۔ اس کے بعد ’الصباحیہ‘ اس کی آخری تقریب ہے۔ اس میں دولہا اور دلہن کو ان کےہنی مون کے سفر پر الوداع کرنے کی رسمیں شامل ہیں۔
موریتانیہ میں شادی کی تقریب کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ نوبیاہتا جوڑا شادی کی تقریب میں شرکت نہیں کرتا، کیونکہ تقریب میں دولہا کے گھر والوں کی شرکت دو خاندانوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں تک محدود ہوتی ہے۔
تمام خاندان اور رشتہ داروں کی موجودگی میں ایک بڑی ضیافت منعقد کی جاتی ہے، جس میں دولہا اپنے نائب کے ذریعے دلہن کے خاندان کو کپڑے اور زیورات پیش کرتا ہے۔ دونوں خاندان تمام افراد سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
موریتانیہ کے لوگ شادی کی ایک سادہ تقریب منعقد کرنے کے خواہشمند ہیں جو دلہن کے والد کے گھر یا اس کے کسی سینیر کزن کے گھر میں اس کے خاندان میں اس کے مقام کی تعریف میں منعقد کی جا سکتی ہے۔
شادی کی تقریب کے دوران جو عام طور پر ایک شادی ہال میں منعقد کی جاتی ہےعام طور پر ایک دوسرے سے ملحق ایک خیمہ ہوتا ہے۔ اسے آرام اور روایتی شادی کا ماحول فراہم کرنے کے لیے سجایا جاتا ہے۔ دلہن کے اہل خانہ مدعو افراد کا استقبال کرتے ہیں۔
اس موقعے پر غیر روایتی طور پر مراکش کے لذیذ پکوان، مٹھائیاں اور مشروبات جو موریطانیہ کی شادی کی ایک اجنبی روایت مہمانوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
شادی ہالوں میں نوبیاہتا جوڑے کا استقبال کرنے کے بعد موسیقی پیش کی جاتی ہے۔ شادی بیاہ کی خوشیوں سے متعلق پرجوش اشعار، آباؤ اجداد اور قبائل کی بہادری کے اشعار گائے جاتے ہیں۔
تقریب کا اختتام مرکزی دعوت کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں مزیدار روایتی کھانوں کی تین ڈشز پیش کی جاتی ہیں۔
خاندانی وقار کو برقرار رکھنا
اس حوالے سے عزیزہ محمود (ایک پارٹی آرگنائزر) کا کہنا ہے کہ موریتانیہ میں شادی بہت سے قدیم عرب اورافریقی رسوم و رواج کی خصوصیات رکھتی ہے۔انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ "خاندان شادی کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ وہ یکساں ثقافت اور روایات اور شادی کا جشن مناتے ہوئے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئےہیں۔ موریتانیہ کی بھرپور اور متنوع ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں‘‘۔
شادیوں کے اخراجات اور کچھ خاندانوں کی طرف سے قرض ادا کرنے یا شادی کی خوشی کو مکمل کرنے کے لیے خاندانوں کے اندر امداد کے دروازے کھولنے کے بارے میں عزیزہ کہتی ہیں کہ "موریطانیہ میں شادی کے اخراجات بعض اوقات 20 ملین قدیم اوقیہ سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم پچاس ہزار ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ نہ صرف دو خاندانوں اور ان کے قبائلی ماحول کے لیے زیادہ ہےمگراس موقع کی اہمیت کے پیش نظر ایک مناسب قیمت ہے۔
عزیزہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ خاندانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شادی کے انعقاد کی لاگت کو کم کرنے کے لیے کم تعداد میں حاضرین کے ساتھ ایک سادہ شادی کا اہتمام کریں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ آپشن قرض لیے بغیر خوشی کی تکمیل کے لیے بہتر ہے۔
موریتانیہ کی شادیوں میں "ویڈنگ پوائنٹ" کی پیشکش کرنا ایک مستند روایت ہے۔ اس سے نوبیاہتا جوڑے کے خاندانوں کو فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ اس تقریب کو انجام دینے والے گانے والے گروپس، خاندانی حلقے اور مدعو کرنے والوں میں سب سے زیادہ رقم پیش کرنے کا مقابلہ ہوتا ہے۔
یہ ستم ظریفی ہے کہ دلہن اپنی شادی کے دن سفید لباس نہیں پہنتی۔ وہ شادی کی تیاریوں کے دنوں میں سیاہ لباس پہنتی ہے اور اپنے چہرے پر کالا نقاب ڈال کر حاضرین سے منہ چھپا لیتی ہے۔