نفرت کی انتہا،فلسطینی نژاد ہونے کی وجہ سے تین سالہ بچی کو تالاب میں ڈبونے کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ٹیکساس کی ایک خاتون پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے تین سالہ فلسطینی نژاد امریکی مسلمان بچی کو تالاب میں ڈبونے کی کوشش کی تھی۔پولیس نے پیر کو کہا کہ یہ واقعہ تعصب پر مبنی تھا اور مشتبہ خاتون نے نسل پرستی پر مبنی تبصرے کیے تھے۔

یہ واقعہ مئی میں پیش آیا، لیکن پیر کو میڈیا کی توجہ اس وقت ملی جب کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز نے متاثرین کو مدد فراہم کی اور ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں ان کے مذہب اور نسب کی وضاحت کی گئی۔

پولیس نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ "یول پولیس ڈیپارٹمنٹ کا خیال ہے کہ یہ جرم تعصب یا نفرت کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ یہ بات پیش کیے گئے مقدمے کا حصہ ہے"۔ پولیس نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ " ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ کیس کا جائزہ لے رہا ہے۔

پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ ڈیلاس فورٹ ورتھ کے یولیس نواحی علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں سوئمنگ پول میں پیش آیا۔ ملزمہ کا بچی کی ماں سے جھگڑا ہوا تھا۔

تین سالہ بچی اپنی ماں کےساتھ تھی جب ملزمہ نے بچی کی ماں سےاس کے آبائی علاقے کے بارے میں پوچھا؟۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم 42 سالہ الزبتھ وولف نے تین سالہ بچی کو ڈبونے اور چھ سالہ لڑکے کو پکڑنے کی کوشش کی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ماں اپنی بیٹی کو پانی سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔ طبی عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور بچی کوبچا لیا گیا۔

اس کے بعد بچی کو پانی میں پھینکنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف منصوبہ بند قتل کی کوشش کا الزام لگایا گیا۔

انسانی حقوق کے محافظوں نےمشرق وسطیٰ بالخصوص غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد امریکہ میں اسلامو فوبیا، فلسطین مخالف تعصب اور سامیت دشمنی کی شرح میں اضافہ نوٹ کیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے پیر کو کہا کہ وہ اس واقعے کی رپورٹس سے "بہت پریشان" ہیں۔

غزہ جنگ کے دوران پیش آنے والے دیگر امریکی واقعات میں اکتوبر میں چھرا گھونپنے کا واقعہ بھی شامل ہے جس میں ایک چھ سالہ لڑکا مارا گیا تھا۔

ریاست الینوائے میں پولیس نے کہا کہ اسے اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ فلسطینی نژاد امریکی تھا۔

ایک فلسطینی نژاد امریکی شخص کو فروری میں ٹیکساس میں چاقو سے وار کیا گیا تھا، اس واقعے میں پولیس نے کہا تھا کہ اسے نفرت پر مبنی جرم قرار دیا گیا تھا۔ نومبر میں ورمونٹ میں فلسطینی نژاد تین طالب علموں کو نشانہ بنانے کے واقعے کو مشتبہ نفرت انگیز جرم قرار دے کر اس کی تحقیقات کی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں