"طالبان کی طرف سے افیون پیدا کرنے پر پابندی سے اموات میں اضافہ ہو جائے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے شعبے نے خبردار کیا ہے کہ افیون کی پیداوار کے مسلسل کم کر دینے سے نئے مسائل پیدا ہوں گے اور اموات میں اصافہ ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے انتباہ اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں طالبان کی طرف سے پابندی لگانے کے باعث افیون کی کاشت 95 فیصد تک کم ہو گئی تھی۔۔کیونکہ طالبان کی جانب سے 2022 میں منشیات کی پیداوار پر پابندی لگادی گئی تھی۔

اس دوران ہی اگرچہ میانمار میں افیون کی پیداوار میں 36 فیصد اضافہ ہوا، لیکن پھر بھی عالمی سطح پر اس کی دستیابی میں 75 فیصد کمی رہی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (یو این او ڈی سی) نے بدھ کو شائع کی گئی اپنی سالانہ ورلڈ ڈرگ رپورٹ میں خبر دار کیا ہے 'افغانستان میں افیون کی طویل عرصے کے لیے قلت پیدا کی گئی تو اس کے نتیجے میں افغانستان اور افغان افیون کے لیے ٹرانزٹ اور منزل کے ممالک میں متعدد مضمرات ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ میں ابتدائی مشاہدات اس سال افغان افیون کی کاشت میں ممکنہ معمولی اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن پابندی سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کا امکان بھی نہیں ہے۔

مزید یہ کہ اگرچہ افغان افیون کی مرکزی منڈیوں جیسے کہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں 2024 کے اوائل تک رپورٹ کی گئی تھی کہ کوئی حقیقی کمی نہیں تھی، لیکن اگر طالبان نے مستقبل میں فصلیں کم رہیں تو یہ تبدیل ہو سکتی ہیں اور عالمی منڈی متاثر ہو گی۔

واضح رہے افیون کی ادویات سازی کے لیے اور علاج کے لیے مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، بشمول میتھاڈون، بیوپرینورفائن، اور سست مارفین کے علاج، لیکن اگر یہ خدمات کم کر دی گئیں تو ہیروئن استعمال کرنے والے دیگر اوپیئڈز کی طرف جا سکتے ہیں۔

رپورٹ افیون کی پیداوار کم کرنے کے ممکنہ اثرات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ فراہمی کم ہو جانے سے صحت کے لیے اہم خطرات ہوں گے۔ خاص طور پریہ خطرات اس صورت میں مزید بڑھ جائیں گے اگر متبادل اوپیئڈز میں انتہائی طاقتور مادے شامل ہوں جیسے کہ کچھ فینٹینائل اینالاگز یا نائٹازینز جو کہ حالیہ برسوں میں کچھ یورپی ممالک میں پہلے ہی سامنے آچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں