طالبان حکومت کے ترجمان نے بدھ کو کہا کہ افغانستان میں دو امریکی قیدی زیرِ حراست تھے اور گوانتانامو بے میں قید افغانوں کے "تبادلے" پر امریکہ کے ساتھ بات چیت ہوئی۔
ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہمیں بدلے میں اپنے شہریوں کو آزاد کروانے کے قابل ہونا چاہیے۔ جیسے امریکی شہری ان کے لیے اہم ہیں، اسی طرح افغان ہمارے لیے اہم ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ قطر میں اقوامِ متحدہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکی نمائندوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ہوئی۔
یہ مذاکرات پیر کو ختم ہو گئے جن میں اقوامِ متحدہ کے حکام، طالبان حکام اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی جمع تھے۔
مجاہد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دو امریکی شہری افغانستان میں قید تھے۔" نیز انہوں نے کہا کہ افغان قیدی بھی امریکہ بشمول کیوبا میں خفیہ امریکی قید خانے میں قید تھے ۔
انہوں نے کہا، "ہم نے پہلے بھی ان (امریکہ) سے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کی ہے۔ افغانستان کی شرائط کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔"
-
افغانیوں کی رہائی کے بدلے امریکی قیدی رہا کر سکتے ہیں:مذاکرات میں طالبان کا موقف
طالبان حکام نے امریکی حکام کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ایشو پر کہا ہے کہ افغانستان ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کا اعلیٰ کمانڈر ہلاک
کمانڈر ناصر گروپ کی اعلیٰ ترین شخصیات میں سے ایک تھا
مشرق وسطی -
غزہ جنگ بندی کے بعد گروپ اسرائیل کے ساتھ لڑائی بند کر دے گا: نائب رہنما حزب اللہ
جنگ بندی مذاکرات میں ناکامی سے لبنان اسرائیل محاذ پر کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
مشرق وسطی