بائیڈن کا مشکل امتحان جو ان کی صدارتی امیدواری کی قسمت کا تعین کرے گا

صدر بائیڈن چند گھنٹوں میں ایک پریس کانفرنس کریں گے جو ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اب سے کچھ دیر بعد امریکی صدر جو بائیڈن اپنے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ناکام مباحثے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس ایک ایسے موقع پر کریں گے جو ان کی صدارتی امیدواری کی قسمت کا تعین کرے گی۔

واشنگٹن میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران دُنیا کی نظریں 81 سالہ صدر کی طرف مرکوز ہوں گی جب وہ اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے اپنی عمر اور صحت کی وجہ سے استعفیٰ دینے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے کنونشن سینٹر میں مقامی وقت کے مطابق 17:30 پر منعقد ہونے والے اس پروگرام کے دوران باییڈن کی کوئی بھی غلطی ان ڈیموکریٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں جو انہیں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے پر زور دیں گے۔

بدھ کے روز اداکار جارج کلونی نے صدر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کے انعقاد کے چند ہفتوں بعد امریکی صدر سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ جارج کلونی جوبائیڈن کے پرزور حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

پارٹی کی ممتاز شخصیات جن میں سابق ہاؤس سپیکر نینسی پیلوسی بھی شامل ہیں نے صدر سے الیکشن میں جانے یا دوڑ سے باہر ہونے کا حتمی فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔ پلوسی کا کہنا تھا کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ جوبائیڈن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں گے یا نہیں۔ وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں ہم ان کا ساتھ دیں گے۔

ایکسیس نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ سینیٹ کے اکثریتی رہ نما چک شومر نے خفیہ طور پر ڈونرز کو بتایا کہ وہ بائیڈن کی جگہ لینے کے خیال پر غور کررہے ہیں۔

لیکن بدھ کی شام ان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں شومر نے کہا کہ وہ صدر بائیڈن کی حمایت کرتے ہیں اور"نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بہت سے ڈیموکریٹس اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ بائیڈن کی سولو پریس کانفرنس کیسی ہو گی۔

بائیڈن نے اپنے پیشروؤں کے مقابلے اکیلے کم پریس کانفرنسیں کیں اور حال ہی میں مختصر سوالات کے ساتھ غیر ملکی رہ نماؤں کے ساتھ مشترکہ طور پر میڈیا کے سامنے آتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ جوبائیڈن کا ہر انٹرویو ان کے لیے تنقید کا باعث بنا۔ ان کی گفتگو اور بہت سی باتیں بھول جانے کی وجہ سے انہیں امریکہ کے صدر جیسے کلیدی عہدے کے لیے ناموزوں سمجھا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرین جین پیئر نے بار بار کہا کہ پریس کانفرنس میں متعدد سوالات شامل ہوں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران صدر کی ناقص کارکردگی، ان کی عمر اور صحت سے متعلق خدشات کو بڑھا دے گی۔ وہ 78 سالہ ریپبلکن لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحثے کے دوران بعض کمزور اور متزلزل دکھائی دیے تھے۔

نیٹو کے اتحادی بھی بائیڈن کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں یقین دہانی کے خواہاں ہیں، جبکہ انہیں خدشہ ہے کہ تنہائی پسند ٹرمپ کی واپسی اتحاد کے لیے مسائل کا باعث بنے گی۔

بائیڈن نے کہا کہ مباحثے کے دوران ان کی ناقص کارکردگی دو ہفتوں کے غیر ملکی دوروں کے بعد شدید نزلہ زکام اور سفری تھکاوٹ کی وجہ سے تھی۔

لیکن جارج کلونی نے بدھ کے روز نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون میں لکھا کہ یہ علامات پہلے بھی موجود تھیں۔ 15 جون کو لاس اینجلس میں منعقدہ ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں جس کی انہوں نے اداکارہ جولیا رابرٹس کے ساتھ مشترکہ میزبانی کی تھی صدر بائیڈن کو اسی انداز میں دیکھا گیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "یہ کہنا تباہ کن ہے لیکن میں جس جو بائیڈن کے ساتھ تین ہفتے پہلے فنڈ ریزر میں تھا وہ 2010ء والے بائیڈن نہیں۔ اب وہ 2020ء والے جوبائیڈن بھی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں