امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پیر کو اسرائیلی حکام سے ملاقات کی اور غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ بلنکن نے پیر کے روز اہم اسرائیلی حکام سے ملاقات کی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان باقی تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنا ممکن ہے۔ ادھر اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی اور اسرائیلی وزیر سٹریٹجک امور رون ڈرمر نے ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل اب بھی 31 مئی کو صدر جو بائیڈن کی جانب سے طے کردہ شرائط کے تحت جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے۔
فلاڈیلفیا محور
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مصر کے ساتھ غزہ کی پٹی کی سرحد پر فلاڈیلفیا کے محور سے فوج کے انخلا کو مسترد کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو شمالی غزہ کے باشندوں کی واپسی سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج ہتھیاروں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے فلاڈیلفیا کوریڈور کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے یہ بھی وضاحت کی کہ مذاکراتی وفد نے نیتن یاہو کو بتایا کہ حماس اس وقت تک جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگی جب تک کہ اسرائیل فلاڈیلفیا محور سے دستبردار نہیں ہو جاتا۔
ٹھوس عزم
واضح رہے اس سے قبل نیتن یاہو کے دفتر کے مشیر دیمتری گینڈلمین نے غزہ پر اس معاہدے کے لیے تل ابیب کے ٹھوس عزم پر زور دیا تھا جس کی بائیڈن حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ حماس نے غزہ معاہدے میں 29 تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی ہے اور نیتن یاہو نے ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔
جہاں تک بات چیت کے اگلے مراحل کا تعلق ہے گینڈل مین نے کہا تھا یہ حماس کو یہ معاملات اس وقت اٹھانا چاہیے جب وہ اس معاہدے کی تمام شرائط کو قبول کر لیتی ہے جس پر بات ہو رہی ہے۔ اگلا قدم حماس کو اٹھانا چاہیے اور اسے امریکی حمایت یافتہ معاہدے کی شرائط کو قبول کر لینا چاہیے۔
گینڈل مین کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی شرائط میں اس کے تمام اہداف حاصل ہونے تک جنگ جاری رکھنے کا حق، جزیرہ نما سینائی سے ہتھیاروں کی سمگلنگ کو روکنا، معاہدے کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر سب سے زیادہ زندہ قیدیوں کی واپسی اور حماس کے جنگجوؤں کی غزہ کی پٹی میں آمد کی روک تھام شامل ہے۔
مذاکرات جاری
اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں قتل عام کی کارروائیاں جاری رہنے کے درمیان ہی قطر اور مصر میں پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔