ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کا تحقیق شدہ نیا وڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں پنسلوینیا میں ہفتے کے روز سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ سے کچھ دیر پہلے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
وڈیو میں بعض شہری یہ کہہ رہے ہیں کہ "وہ چھت پر ہے ، یہ دیکھو وہ اب کھڑا ہو رہا ہے"۔ ان شہریوں کا اشارہ حملہ آور کی طرف تھا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بات کی آزادانہ تحقیق کا حکم دیا ہے کہ سیکرٹ سروس کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود مسلح شخص اسٹیج سے اتنے قریب پوزیشن لینے میں کس طرح کامیاب ہو گیا۔
امریکا میں ہوم لینڈ سیکورٹی کے انسپیکٹر جنرل جوزف کوفیری نے پنسلوینیا میں ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے لیے سیکرٹ سروس کے سیکورٹی پلان کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ریلی کے دوران ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر کے سابق صدر کے قتل کی کوشش کی۔ حملے میں ٹرمپ کے کان کو گولی چھو کر گزر گئی جس سے وہ زخمی ہو گئے تھے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق تحقیقات میں ابھی تک ایسی کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں کہ حملہ آور کا کسی شریک یا غیر ملکی معاون سے تعلق تھا۔
اس سے قبل امریکی نیوز چینل "سی این این" نے منگل کے روز با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں امریکی انتظامیہ کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے لیے ایرانی سازش کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں۔ مزید یہ کہ ایرانی منصوبے کے بارے میں معلومات کے بعد سیکرٹ سروس نے سابق صدر کے تحفظ کے اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ سی این این کے مطابق ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ حملہ آور نوجوان کا ایران کے ساتھ کوئی رابطہ تھا۔
ادھر اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے امریکی صدارتی انتخابات کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے میں تہران کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے مشن کی خاتون رکن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ الزام بے بنیاد اور جانب دارانہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ "اے آر 15 بندوق" پر پابندی عائد کر دی جائے۔ لاس ویگاس میں منگل کی شام ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ "امریکا کی سڑکوں سے ان جنگی ہتھیاروں کو نکالنے کے لیے آپ میرے ساتھ شامل ہو جائیں"۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب کے آغاز پر "شکر ادا کیا" کہ ٹرمپ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔
امریکا اپنی سرزمین پر آتشی ہھتیاروں کے پھیلاؤ اور امریکی شہریوں کی جانب سے بآسانی خرید کے مسئلے سے دوچار ہے۔
ملک میں ہر تین بالغ امریکیوں میں سے ایک امریکی کم از کم ایک آتشی ہتھیار رکھتا ہے اور نصف بالغ آبادی ایسے گھروں میں رہتی ہے جہاں آتشی ہتھیار موجود ہیں۔