مقبوضہ فلسطین کی سرزمین پر اقوامِ متحدہ کی عدالت کی رائے متوقع

اقوامِ متحدہ نے دو اہم نکات پر عدالت کی رائے طلب کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ جنگ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت جمعہ کو 1967 سے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے قانونی نتائج پر اپنا نظریہ پیش کرے گی۔

بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی طرف سے کوئی بھی رائے غیر پابند ہوگی لیکن یہ حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آئی ہے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے عدالت کے سامنے لائے گئے ایک الگ اعلیٰ سطحی مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر حملے کے دوران نسل کشی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

دوپہر ایک بجے جی ایم ٹی کے مطابق منصفین دی ہیگ کے شاندار پیس پیلس میں اپنے نتائج پڑھیں گے جہاں آئی سی جے واقع ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2022 کے آخر میں آئی سی جے سے "مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور طرزِ عمل سے پیدا ہونے والے قانونی نتائج" کے بارے میں "مشاورتی رائے" دینے کو کہا تھا۔

اسمبلی کے اندر زیادہ تر ممالک نے اس درخواست کی حمایت کی جس کے بعد ممالک کی طرف سے گذارشات سننے کے لیے آئی سی جے نے فروری میں ایک ہفتہ طویل سیشن منعقد کیا۔

زیادہ تر مقررین نے بھی سماعتوں کے دوران اسرائیل سے 57 سالہ قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک طویل قبضے سے شرِق اوسط اور اس سے باہر کے استحکام کو "انتہائی خطرہ" لاحق تھا۔

لیکن امریکہ نے کہا کہ اسرائیل کو قانونی طور پر اپنی "انتہائی حقیقی سکیورٹی ضروریات" کو مدِنظر رکھے بغیر دستبردار ہونے کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔

اسرائیل نے زبانی سماعتوں میں حصہ نہیں لیا۔

اس کے بجائے اس نے ایک تحریر جمع کروائی جس میں اس نے عدالت سے پوچھے گئے سوالات کو "متعصبانہ" اور "ایک مخصوص رجحان کے حامل" قرار دیا۔

جنرل اسمبلی نے آئی سی جے سے دو سوالوں پر غور کرنے کو کہا ہے۔

اوؐل عدالت اس بات کے قانونی نتائج کا جائزہ لے جسے اقوامِ متحدہ نے "اسرائیل کی طرف سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل خلاف ورزی" کہا ہے۔

اس کا تعلق "1967 سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر طویل قبضے، آباد کاری اور الحاق" اور "مقدس شہر یروشلم کی آبادیاتی ساخت، کردار اور حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدامات" سے ہے۔

یاد رہے کہ جون 1967 میں اسرائیل نے چھے روزہ جنگ میں اپنے بعض عرب ہمسایوں کو کچل کر مغربی کنارے بشمول اردن سے مشرقی یروشلم، شام سے گولان کی پہاڑیاں اور مصر سے غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینائی پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے 70,000 مربع کلومیٹر (27,000 مربع میل) مقبوضہ عرب علاقے کو آباد کرنا شروع کر دیا۔

بعد میں اقوامِ متحدہ نے فلسطینی سرزمین پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور قاہرہ نے اسرائیل کے ساتھ 1979 کے امن معاہدے کے تحت سینائی دوبارہ حاصل کر لیا۔

آئی سی جے سے ان نتائج کا جائزہ لینے کو بھی کہا گیا ہے جنہیں اسرائیل کی طرف سے "متعلقہ مجرمانہ قانون سازی اور اقدامات اختیار کرنا" قرار دیا گیا ہے۔

دوم آئی سی جے یہ مشورہ دے کہ اسرائیل کے اقدامات کس طرح "قبضے کی قانونی حیثیت کو متأثر کرتے ہیں" اور اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک کے لیے اس کے کیا نتائج ہوں گے۔

آئی سی جے ریاستوں کے درمیان تنازعات پر فیصلہ دیتی ہے۔ عموماً اس کے فیصلے پابند ہوتے ہیں حالانکہ اس کے پاس انہیں نافذ کرنے کے بہت کم ذرائع ہوتے ہیں۔

البتہ اس معاملے میں عدالت کی جاری کردہ غیر پابند ہو گی اگرچہ زیادہ تر مشاورتی آراء پر درحقیقت عمل کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں