ترکیہ میں غیر ملکیوں کو کثرت سے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ عرب باشندوں، خاص طور پر شامی مہاجرین پر حملوں کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نگرانی کرنے والے کیمرے اور موبائل فون ان واقعات کو ریکارڈ کرکے یہ بتا رہے ہیں کہ ترکیہ میں شامی باشندوں پر عرصہ حیات تنگ ہو رہا ہے۔
اگرچہ حکومتی اہلکار ترکیہ میں "نسل پرستی" کے وجود سے انکار کرتے ہیں، لیکن حملے کے واقعات روزانہ دہرائے جاتے ہیں۔ تازہ ترین شکار عزالدین العسانی نامی ایک نوجوان شامی ہے جسے ترک شہریوں نے ازمیر میں حملے کا نشانہ بنایا کیا جس کے بعد وہ کومہ میں ہے۔
تُرکش میڈیا میں شائع ہونےوالی رپورٹس کے مطالعے سے حاصل کی جانے والی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ 15 سالہ شامی نوجوان عزالدین الراشد العسانی کو اتوار کو ترکیہ کے شہر ازمیر میں نسل پرستانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
العسانی اپنے خاندان کے ساتھ قیصری شہر میں مقیم تھا، لیکن وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ تشدد کی لہر کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ قیصری شہر میں رواں سال جولائی کے شروع میں شامی شہریوں پر اور ان کی املاک پر حملہ کیا گیا۔
العسانی کے پانچ بھائی ہیں جو اپنے خاندان کے ساتھ ساحلی شہر ازمیر میں رہنے کے لیے چلے گئے تھے، لیکن قیصری حملوں میں بچ جانے والے اس نوجوان پر ان کی نئی رہائش گاہ کے قریب کام کی جگہ پر حملہ کیا گیا، جہاں اس نے چند روز قبل کام شروع کیا۔
ازمیر شہر میں، العسانی اپنے کزن کے کام کی جگہ پر کار واش میں شامل ہوا۔ وہاں اسے ایک نوجوان ترک نے نسل پرستانہ حملے کا نشانہ بنایا، صرف اس لیے کہ وہ شامی تھا۔
15 سالہ لڑکے کو برین ہیمرج ہوا، کھوپڑی اور ناک ٹوٹ گئی اور دانت ٹوٹ گئے۔ اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی سرجری ہوئی جو چار گھنٹے تک جاری رہی۔ اب وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں۔
العسانی اس وقت بڑی مشکل سے دوچار ہے کیونکہ وہ اپنی یادداشت کھو چکا ہے۔ وہ بول سکتا ہے اور نہ ہی اچھی طرح دیکھ سکتا ہے۔اسے مدد فراہم کرنے کے بجائے نوجوان کے خاندان کو حملہ آور کے والد کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں، جنہوں نے انہیں بتایا کہ اگر ان کے بیٹے کے خلاف شکایت درج کروائی گئی تو زخمی شخص اور اس کے خاندان کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
3 جولائی کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ایک اور شامی نوجوان کو دو موٹر سائیکلوں سے آنے والے تین اوباشوں کے حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔