افغانستان : تانبے کے زیر زمین ذخائر نکالنے کے منصوبے کی تیاری،علاقے میں سڑک کی تعمیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

افغانستان میں طالبان نے تانبہ نکالنے کے چین کے ساتھ معاہدے کے بعدعلاقے میں سڑکوں کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز ایک بڑی سڑک سے کیا گیا ہے تاکہ اس دور افتادہ علاقے تک آمدو رفت اور نقل وحمل میں آسانی ہو سکے، جس میں کاپر کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ کام کا یہ آغاز مشرقی صوبے لوگر میں کیا گیا ہے۔

چین کی ' میٹلرجیکل کارپوریشن آف چائنا ' نامی کمپنی نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ معدنیات کے اعتبار سے اس غیر معمولی علاقے سے تانبہ نکالنے کا فیصلہ کر چکی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ سرگرمی کب شروع ہو سکے گی۔

چین اور افغانستان کے درمیان افغانستان سے تانبہ نکالنے کے سلسلے میں معاہدہ 2021 میں طے پایا تھا، اس وقت ابھی طالبان کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں بھی دونوں ملکوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے۔

واضح رہے افغانستان کی معدنی وسائل سے مالا مال سرزمین سے اگر تانبہ نکالنے کا یہ منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو اس کم از کم 3000 افغان شہریوں کو براہ راست ملازمتیں مل سکیں گی، جبکہ ہزاروں کے لیے بالواسطہ طور پر امکانات پیدا ہوں گے۔

افغانستان میں پائے جانے والے معدنی وسائل کی دولت اس قدر زیادہ ہے کہ افغانستان جلد معاشی خود کفالت و آزادی کی منزل کے راستے پر ہو گا۔

چین کی کمپنی ' ایم ایم سی ' کے زیر قیادت کام کرنے والی چینی کنسورشیم نے افغان حکومت کے ساتھ 2008 میں 30 سالہ لیز کا معاہدہ کیا تھا۔ موجودہ نائب وزیر اعظم ملا برادر نے بدھ کے روز صوبہ لوگر میں سڑک کی تعمیر کے لیے منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور اس منصوبے کو افغانستان کے لیے وسیع تر فائدے کا حامل قرار دیا۔

ملا برادر نے کہا ۔ اس منصوبے کی شروعات میں بہت تاخیر ہو چکی ہے۔بہت سارا قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے۔ اس لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جارہا ہے۔ چین کے سفیر نے ایک تکنیکی سٹاف کے ارکان نے بھی محمد آغا کے علاقے میں منعقدہ اس تقریب میں شرکت کی ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں