اگرچہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ اور قتل کی کوشش کو دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گذرچکا ہے، لیکن مجرم اور اس کے منصوبوں کے بارے میں نئی تفصیلات ابھی تک سامنے آ رہی ہیں۔
کل اتوارکو امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میکول نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ کے قتل کی کوشش کرنے والے شخص نے خود کو سکیورٹی کی توجہ سے بچانے اور فرار کے لیے ایک نئی چال چلی تھی۔ اس نے گاڑی کے اندر دھماکہ خیز مواد چھوڑا تھا جسے وہ ٹرمپ پر حملے کے بعد ریمورٹ کنٹرول سے اڑانا چاہتا تھا، مگر دور ہونے کی وجہ سے وہ دھماکہ نہیں ہوسکا۔
’پولیٹیکو‘ کے مطابق ’ایف بی آئی‘ کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے گذشتہ بدھ کو ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک ڈرون اور دھماکہ خیز آلات ملے ہیں جنہیں تھامس کروکس کی کار میں ریمورٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا جا سکتا تھا۔
رے نے کہا کہ کروکس کے پاس ٹرانسمیٹر بھی تھا مگر اس کے مقام سے ریموٹ "ممکنہ طور پر کام نہیں کرتا"۔
نئی تفصیلات
جب کہ ’ایف بی آئی‘ کروکس کے مقاصد کے بارے میں لا علم ہے۔ ہاؤس فارن افیئر کمیٹی کے چیئرمین جو پہلے ہاؤس ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ تھے نے قاتلانہ حملے سے قبل حملہ آور کے منصوبوں کے بارے میں نئی تفصیلات فراہم کیں۔
میک کال نے سی بی ایس کے "فیس دی نیشن" پر اینکر رابرٹ کوسٹا کوبتایا کہ حملہ آور کے پاس کار میں دھماکہ خیز آلہ اور دو بم تھے۔
اس کا منصوبہ صدر کو قتل کرنا تھا۔ عمارت کی دوسری طرف اس کی گاڑی کو دھماکے سے اڑا کر خلفشار پیدا کرنا اور سکیورٹی فورسز کی توجہ ہٹاتے ہوئے فرار ہونا تھا۔
کانگریس کی متعدد کمیٹیاں ٹرمپ پرقاتلانہ حملے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ ایوان نمائندگان نے گذشتہ بدھ کو متفقہ طور پرایک بل پاس کیا جس میں تجویز دی گئی کہ فائرنگ کی تحقیقات کے لیے ایک دو طرفہ ٹاسک فورس بنائی جائے۔
مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی
ٹاسک فورس جس میں سات ریپبلکن اور چھ ڈیموکریٹس شامل ہوں گے، جن میں سے ہر ایک کو اس کی پارٹی کی قیادت نے منتخب کیا ہے۔ یہ کمیٹی دسمبر کے وسط تک اپنے نتائج جاری کر دے۔
میک کال نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا وہ ٹاسک فورس میں خدمات انجام دیں گے، لیکن اگر انہیں کہا گیا تو وہ تیار ہوں گے۔
بتایا جاتا ہے کہ سیکرٹ سروس کے سنائپرز نے کروکس کو اس وقت گولی مار دی جب اس نے ٹرمپ سے صرف 400 فٹ کی دوری پر ایک عمارت کی چوٹی سے13 جولائی کو AR-15 رائفل سے فائر کیا۔ٹرمپ اس وقت ایک ریلی میں خطاب کررہے تھے۔ فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ٹرمپ سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ٹرمپ کے کان میں گولی لگی تھی۔