ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ میں عہدے کا حلف اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب توثیق کے بعد پارلیمنٹ میں آج منگل کو عہدے کا حلف اٹھایا۔

پزشکیان نے حسب روایت حلف کے الفاظ دہراتے ہوئے "سرکاری نظریے، اسلامی جمہوریہ کے نظام اور آئین کے تحفظ، آزادی، عوام کی عزت وقار اور عوام کے آئین میں تسلیم شدہ حقوق کا دفاع کرنے کا عہد کیا"۔

پزشکیان نے کہا کہ وہ ایرانی آئین اور "قومی اتفاق رائے" کی حکومت کی تشکیل کے لیے پرعزم ہیں۔

اس موقعے پر ایرانی پارلیمان کے سرکاری ترجمان علی رضا سلیمی نے کہا کہ صدر کے پاس حلف اٹھانے کے دن سے دو ہفتے اندر اپنی کابینہ تشکیل دیں گے۔

سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جوکابینہ کی تشکیل کے لیے قائم کردہ اسٹریٹجک کمیٹی کے سربراہ ہیں کہ نے کہا کہ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ ظریف نے لکھا کہ "وزارتی تجویز کے عمل کے حتمی نتائج جناب صدر کی حکمت عملی کے مطابق ہیں"۔

دریں اثنا قدامت پسند رکن پارلیمنٹ احمد راستینہ نے "مغربی رجحان" رکھنے والے ارکان کو کابینہ میں شامل کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے "دیدبان ایران" ویب سائٹ کو بتایا کہ "صدر کو مغرب نواز امیدواروں کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ہم انہیں اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے"۔

غیر ملکی موجودگی

ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں پڑوسی ممالک، خطے، ایشیائی ممالک، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے سربراہان اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کے حکام اور سفیروں نے شرکت کی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے غیر ملکی مہمانوں، موجودہ اور سابق ایرانی حکام اور مسلح افواج کے کمانڈروں کا استقبال کیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے شرکاء کی آمد کی براہ راست تصاویر نشر کیں، جن میں پزشکیان بھی شامل تھے۔ اس موقعے پر ان کی بیٹی زہرہ پزشکیان نے بھی شرکت کی۔

سرکاری ’مہر‘ ایجنسی نے پارلیمنٹ کے پروٹوکول کے سربراہ رکن پارلیمنٹ علی رضا شریفی کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریب میں 110 وفود اور بین الاقوامی تنظیموں سمیت 86 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اندرون اوربیرون ملک سے تعلق رکھنے والے میڈیا کے تقریباً 600 صحافیوں نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں