غیر ملکی شہریوں سے لبنان سے کوچ کر جانے کے مطالبات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیل نے اتوار کی شب لبنان کے جنوب میں کفرکلا قصبے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔ یہ بات العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے بتائی۔ ادھر ایران اور اس کے اتحادیوں کی اسرائیل کے ساتھ عسکری جارحیت میں اضافے کے اندیشے سے غیر ملکی شہریوں کو لبنان سے کوچ کرنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ یہ پیش رفت بدھ کے روز تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کارروائی کی نسبت اسرائیل کی طرف کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب غزہ میں شہری دفاع کے ادارے کے اعلان کے مطابق اسرائیل نے النصر کے محلے میں دو اسکولوں کو میزائلوں سے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملے میں حماس کے عناصر کو نشانہ بنایا۔

اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایرانی قیادت نے ہنیہ کے انتقام کا عزم ظاہر کیا ہے جب کہ حزب اللہ نے بیروت میں اپنے سینئر کمانڈر فؤاد شکر کی موت کے انتقام کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل کو "سنگین سزا" دی جائے گی۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل کو مناسب وقت اور جگہ پر مناسب طریقے سے سخت سبق سکھایا جائے گا۔

ادھر حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ فؤاد شکر کی ہلاکت کے بعد "ناگزیر جواب جلد آنے والا ہے"۔ نصر اللہ کے مطابق معرکے کے لیے تمام محاذ کھلے ہیں۔

اسی طرح حماس تنظیم اور یمن میں حوثی باغیوں نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اتوار کے روز ایک بیان میں "دفاعی جانب سے تیاری کی سطح بلند کرنے" پر زور دیا۔ گیلنٹ کا کہنا تھا کہ "ہم جلد جواب یا حملے کے لیے تیار ہیں ... اگر انھوں نے ہم پر حملہ کرنے کی جرات کی تو وہ بھاری قیمت چکائیں گے"۔

اس دوران فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں اور اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے اتوار کے روز اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی جارحیت سے "کسی بھی قیمت پر" اجتناب کیا جائے۔ دونوں سربراہان نے تنازع کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انتقام کی سوچ سے باہر آ کر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں کیوں کہ ان پر عوام کی سلامتی یقینی بنانے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

خطے میں تشدد کی آگ بھڑکنے کے اندیشوں میں اضافے کے ساتھ ہی امریکا نے خطے میں اپنے فوجی وجود کو مضبوط تر بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس نے اپنے فوجیوں اور حلیف اسرائیل کی حفاظت کے لیے مزید جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔

لبنان میں فوجی جارحیت میں اضافے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سویڈن، امریکا، برطانیہ، فرانس، اردن اور سعودی عرب نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران میں اپنے شہریوں کو فوری طور پر لبنان چھوڑ دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ادھر کینیڈا نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا دورہ کرنے سے گریز کریں۔ کینیڈا نے جون میں اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑ دینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اتوار کے روز تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کی۔

خطے کی تازہ ترین پیش رفت کے باعث فضائی کمپنیوں نے بیروت کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ ان کمپنیوں میں جرمنی کی "لفتھینزا" کے علاوہ "ایئر فرانس" ، "ٹرانسویا فرانس" ، "کویت ایئرویز" اور "قطر ایئرویز" شامل ہے۔

لفتھینزا نے تل ابیب کے لیے بھی اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اتوار کو علی الصبح بتایا کہ لبنان کے جنوب سے تقریبا 30 میزائل اسرائیل کی سمت داغے گئے جن میں زیادہ تر کو مار گرایا گیا۔ حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر کو جنگ چھڑنے کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تقریبا روزانہ کی بنیاد پر بم باری کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب تل ابیب میں اتوار کے روز چاقو کے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے حملہ آور کو بھی فوری طور پر ہلاک کر دیا۔ مرنے والوں میں ایک 66 سالہ خاتون اور اسّی کی دہائی کی عمر کا ایک بوڑھا شخص شامل ہے۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلال احمر اور شہری دفاع کے اداروں نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز شمال میں جبالیا اور وسط میں دیر البلح میں اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں 16 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ غزہ شہر کو بھی زمینی ، سمندری اور فضائی بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا دس ماہ قبل اکتوبر 2023 میں حماس کے بڑے حملے میں 1197 اسرائیلی ہلاک ہو گئے جن میں اکثریت شہریوں کی تھی۔ حملہ آوروں نے 251 افراد کو اغوا بھی کر لیا جن میں سے 111 ابھی تک غزہ میں یرغمال ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں 39 مغوی مارے جا چکے ہیں۔

ادھر غزہ پٹی پر اسرائیل کی بم باری اور حملے میں اب تک 39583 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت ے مطابق مرنے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین شہریوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں