ایران اور اسرائیل طویل فاصلے کی فضائی جنگ کیسے لڑیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیل کے ہاتھوں حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کے بعد ایران جوابی کارروائی کے لیے تیاری میں ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس اسلحہ کے حوالے سے کیا قوت ہے ، ان سطور میں اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایران

ایرانی فضائیہ میں 37000 اہلکار شامل ہیں۔ تاہم بین الاقوامی پابندیوں نے ایران کی رسائی جدید ترین ہائی ٹیکنالوجی فوجی ساز و سامان تک منقطع کر دی ہے۔ ایرانی فضائیہ کے پاس محض چند سٹرائیک طیارے ہیں۔ جن میں روسی جیٹ طیارے اور 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل حاصل کیے گئے امریکی ساختہ طیارے شامل ہیں۔

'انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹیڈیز ان لندن ' کے مطابق ایران کے پاس ایف 4 اور ایف 5 طیاروں کے سکوارڈ، روسی ساختہ سخوئی 24 طیاروں کے سکوارڈ کے علاوہ MiG-F7, 29s اور F-14 طیارے ہیں۔

ایرانی فضائیہ کے پاس ڈرون طیارے بھی موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ان کا ہونا کافی نہیں ہے۔ نیز 3500 سے زائد ایسے میزائل موجود ہیں جو ایک سطح سے دوسری سطح پر مار گرائے جا سکتے ہیں۔

ان میں سے کچھ میزائل ایسے ہیں جو ٹن وار ہیڈز کے ہیں۔ تاہم اسرائیل تک پہنچنے کے لیے یہ کافی تعداد نہیں ہے۔

ایرانی فضائیہ کے کمانڈر نے ماہ اپریل میں کہا تھا 'سخوئی 24 طیارہ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین تیاری کے ساتھ موجود ہے۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ سخوئی 24 طیاروں پر انحصار ایرانی فضائیہ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ یہ 1960 کی دہائی میں تیار کیے گئے تھے۔ تاہم ایران روسی و مقامی طور پر تیار کردہ ان میزائلوں پر انحصار کر سکتا ہے جو زمین سے فضا میں ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

2016 میں ایران نے روس کا تیار کردہ ایس 300 طیارہ شکن نظام حاصل کیا تھا۔ یہ دفاعی نظام ایک ساتھ متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان اہداف میں ہوائی جہاز اور بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔

ایرانی فضائیہ کے پاس بیور 373 بھی ہے۔ جو زمین سے فضا میں ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیز صیاد اور رعد دفاعی نظام بھی ایران کے پاس موجود ہے۔

اسرائیل

اسرائیل کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 جیٹ طیارے موجود ہیں۔ نیز امریکی فراہم کردہ فضائی نظام بھی ہے۔ جس نے ماہ اپریل میں ایرانی ڈرونز کو مار گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسرائیلی فضائیہ کے پاس طویل فاصلے تک ٹارگٹ کرنے والے طیاروں کی کمی ہے۔ تاہم بوئنگ 707 طیارے ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جو اسرائیلی فوجیوں کو ایران تک لے کر جاسکے۔ خیال رہے یہ چھوٹا بیڑا ایندھن بھرنے والے ٹینکر کے طور پر کام کرتا ہے۔

اسرائیلی فضائیہ ماہ جولائی میں طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی سرگرمی اس وقت کر چکی ہے جب حدیدہ بندرگاہ کے قریب حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی تھی۔

اس کے علاوہ اسرائیل کے پاس 300 گھنٹے سے زیادہ پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون بھی ہیں۔

خیال رہے اسرائیل کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل دور تک ٹارگٹ کرنے والے میزائل تیار کر چکا ہے۔ لیکن اسرائیل نے اس امر کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید کی ہے۔

1991 کی خلیجی جنگ کے بعد امریکہ کی مدد سے تیار کیا جانے والا ملٹی لیئر فضائی نظام یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایرانی میزائل اور ڈرونز کو ٹارگٹ کر سکے۔

اسرائیلی دفاعی نظام یرو3 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ اونچائی پر موجود میزائل کو روک سکتا ہے۔ یرو2 کم اونچائی میزائل روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ درمیانی فاصلے تک میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیوڈز سلنگ موجود ہے۔

شارٹ رینج آئرن ڈوم غزہ و ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خیال رہے اسرائیل کا دفاعی نظام اس کے اتحادی امریکہ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں