امریکہ نے جمعرات کو بنگلہ دیش میں نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کی توقع رکھتا ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم حالیہ تشدد کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر یونس کے مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم عبوری حکومت اور ڈاکٹر یونس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جب کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کے لیے ایک جمہوری مستقبل کا خاکہ تشکیل دے رہے ہیں۔ "
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار ہیلن لا فاو نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور وہ عبوری حکومت سے رابطے میں ہیں۔
یونس نے اس کے کئی روز بعد حلف اٹھایا جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ طلباء کی قیادت کے تحت ہونے والی ایک بغاوت کے بعد ملک سے فرار ہو گئیں۔
جمعرات کی شب حلف برداری کی تقریب بنگلہ دیشن کے ایوانِ صدر (بنگا بھبن) میں منعقد ہوئی جہاں بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے محمد یونس سے حلف لیا۔
ڈاکٹر محمد یونس کے علاوہ ان کی کابینہ نے ارکان نے بھی حلف اٹھایا جس میں طلبہ تحریک کے رہنما بھی موجود ہیں۔
اس سے قبل ڈاکٹر یونس مقامی وقت کے مطابق دوپہر سوا دو بجے پیرس سے بذریعہ دبئی ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہچنے تو آرمی چیف جنرل وقار الزمان، طلبہ تحریک کے رہنماؤں سمیت دیگر اہم شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔
ایئرپورٹ پر طلبہ کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یونس نے کہا تھا کہ وطن واپس پہنچ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ طلبہ نے ملک کو بچایا ہے اور اب ہمیں آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور ملک سے فرار کے بعد ایک سازش کے تحت اقلیتوں پر حملے کیے گئے۔ اب ہمیں ملک میں امن اور استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔
امریکہ کا حسینہ کے ساتھ ان کے 15 برس کے دور اقتدار میں بڑے پیمانے پر تعاون پر مبنی تعلقات تھے جن میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب انہوں نے جمہوریت کے بارے میں اپنے ریکارڈ پر امریکہ کی تنقید پر برہمی کا مظاہرہ کیا۔
گرفتار شہری پر پاکستان سے کوئی بات نہیں کی
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے امریکی سیاست دانوں اور سرکاری اہلکاروں کے قتل کی ایک ایرانی سازش میں پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام کے بارے میں اسلام آباد کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔
ایک کریمنل کمپلین میں کہا گیا ہے کہ 46 سالہ آصف مرچنٹ نے 2020 میں ایران کے پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بدلے میں اس سازش کو انجام دینے کے لیے امریکا میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ آصف مرچنٹ نے امریکا کا سفر کرنے سے پہلے ایران میں وقت گزارا اور نیویارک کے بروکلین فیڈرل کورٹ میں پیش دستاویز میں آصف رضا مرچنٹ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے امریکی سرزمین پر سیاستدان اور حکومتی اہلکاروں کو قتل کرنے کی سازش کی۔
جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میتھیو ملر سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا نے آصف مرچنٹ پر فرد جرم عائد کرنے کے حوالے سے پاکستانی حکام کے ساتھ کوئی بات چیت کی ہے؟
اس پر ترجمان نے جواب دیا میرے پاس آج بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، لیکن ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکا اپنے لوگوں بشمول غیر ملکی حکام کو ایران کی طرف سے آنے والے خطرات سے بچانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ یہی کیس رہے گا اور اس سے آگے مجھے یہ معاملہ محکمہ انصاف پر چھوڑ دینا چاہیے’۔
ترجمان نے یہ کہتے ہوئے اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ یہ ایک جاری قانونی معاملہ ہے اور اس کا موضوع محکمہ انصاف کی فرد جرم ہے۔