اسرائیل کی غزہ کی جنگ کے گیارہویں مہینے پہنچنے کے بعد یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل بھی ہفتے کے روز کے ہونے والی اسرائیلی فوج کی بمباری سے خوف زدہ ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے 'اس طرح کے قتل عام کو کوئی جواز نہیں ہے۔'
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا ہے 'میں بے گھر لوگوں کے لیے شیلٹر بنے ہوئے سکول پر بمباری کی تصاویر دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا ہوں۔'
واضح رہے غزہ میں اسرائیلی فوج فلسطینیوں پر بمباری کی اس قدر ماہر ہو گئی ہے کہ اب اپنے آس پاس والے ملکوں پر بھی اس کا ہاتھ کھلنے لگا ہے۔ اب تک تقریباً چالیس ہزار فلسطینی صرف غزہ میں اس بمباری سے ہلاک ہوئے ہیں۔
بہت بڑی تعداد ان ہلاک کیے گئے فلسطینیوں میں بچوں اورعورتوں کی ہے۔ ایسی بے شمار ہلاکتیں ہوئی جن کی جسموں کے چیتھڑے تک اڑ گئے یا ملبےکے ڈھیر میں دب کا اسی کا حصہ بن گئے ۔ ۔خون خاک نشیناں کی طرح رزق خاک ہو گئے۔
تاہم یورپی یونین کے خارجہ پالیسی چیف ہونے کے ناطے جوزپ بوریل بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ اس کے باوجود ہفتے کے روز التابعین سکول پر بمباری کے بعد کی تصاویر دیکھ کر ان کے احساسات خالص اور عام انسانوں جیسے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ' ایکس ' پر مزید لکھا ہے' میں تصویریں دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا ہوں، اطلاع یہ ہے کہ درجنوں فلسطینی نشانہ بن گئے ہیں۔ پچھلے ہفتے کے دوران کم از کم اس طرح کے سکولوں میں 10 واقعات پیش آچکے ہیں۔اس طرح کے قتل عام کا کوئی جواز نہیں ہے۔'
-
غزہ میں سکول پر اسرائیلی بمباری، سعودی عرب کی طرف سے شدید مذمت
سعودی عرب کی طرف سے اس بیان میں بین الاقومی برادری کے اسرائیل کو قانون کے کٹہرے ...
ایڈیٹر کی پسند -
غزہ سکول پر اسرائیلی بمباری کی تحقیقات کرائی جائیں، قطر کا مطالبہ
غزہ کے ایک اور سکول پر بد ترین اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں لگ بھگ ایک سو ...
مشرق وسطی -
برطانیہ غزہ میں سکول پر حملے سے 'دہشت زدہ' ہے: اعلیٰ سفارت کار
فرانس کی جانب سے بھی سخت الفاظ میں حملے کی مذمت
بين الاقوامى