امریکا کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے باور کرایا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اس طرف توجہ نہیں دی۔
جمعرات کے روز "العربیہ/الحدث" سے گفتگو کرتے ہوئے بولٹن کا کہنا تھا کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ بھڑکا دی ہے۔ حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت سے ایران خطے میں اپنی مصداقیت کھو چکا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات کے بارے میں بولٹن نے کہا کہ دوحہ بات چیت میں حماس کی عدم شرکت نے ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم کر دیے ہیں۔
دوسری جانب مصری نیوز چینل القاہرہ نے فائر بندی کی بات چیت سے باخبر ذرائع کے حوالے سے جمعرات کے روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اختلافات ابھی تک "بڑے" ہیں۔ چینل کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کے مصری عہدے دار نے بتایا ہے کہ مصری وفد دوحہ میں بات چیت کے ساتھ فائر بندی کے سمجھوتے میں فریقین کے بیچ موافقت کو یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کا نیا دور جمعرات کے روز دوحہ میں شروع ہوا۔ یہ مذاکرات اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان تباہ کن جنگ کے دس ماہ گزرنے کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس دوران میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ میں چالیس ہزار سے زیادہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں خطے میں علاقائی جارحیت بھی عروج پر ہے جس میں ایک طرف عبرانی ریاست اور دوسری طرف ایران اور اس کے اتحادی ہیں۔
دوحہ میں جمعرات کے روز شروع ہونے والے مذاکرات کے نئے دور کا مقصد غزہ پٹی میں یرغمال افراد اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کا تبادلہ ممکن بنانا ہے۔
ادھر واشنگٹن میں امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کیربی کے مطابق دوحہ مذاکرات کا آغاز "حوصلہ افزا" ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ مذاکرات جمعے کے روز بھی جاری رہیں گے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے نزدیک یہ بات چیت عالمی استحکام کے لیے "فیصلہ کن" ہے۔