جرمنی میں چاقو سے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی
تنظیم کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جرمنی کے شہر زولنگن میں مسیحیوں کے اجتماع پر حملہ کرنے والا دولت اسلامیہ کا فوجی تھا
جرمنی کے مغربی شہر زولنگن میں ایک میلے کے دوران ہونے والے چاقو حملے کے سلسلے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مشتبہ افراد کو پناہ گزینوں کے ہاسٹل سے گرفتار کیا گیا ہے جو جائے وقوع سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم پولیس نے ملزمان کی شناخت کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کیں۔
خیال رہے کہ حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔ داعش سے وابستہ عماق نیوز ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’گذشتہ روز جرمنی کے شہر زولنگن میں مسیحیوں کے اجتماع پر حملہ کرنے والا دولت اسلامیہ کا فوجی تھا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ ’فلسطین اور ہر جگہ پر رہنے والے مسلمانوں کا بدلہ ہے۔‘
تاہم داعش کے اس دعوے کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس سے قبل جرمن پولیس نے کہا تھا کہ حملے کے پیچھے ’دہشت گرادانہ مقصد کو نہیں خارج کیا جا سکتا۔‘
جمعے کی رات کو میلے کے دوران ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان میں 56 اور 67 سال کی عمر کے دو مرد اور 56 سال کی ایک خاتون شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے چار کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
سنیچر کو پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ مجرمانہ اقدام کو رپورٹ نہ کرنے کے الزام میں ایک 15 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔
پراسیکیوٹر مارکس کیسپر کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے نوجوان کو حملے سے قبل ایک شخص جو ممکنہ طور پر چاقو بردار شخص ہو سکتا ہے کے ساتھ حملے سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے سنا تھا۔ نامعلوم حملہ آور جائے وقوع سے فوری طور پر فرار ہو گیا تھا جس کی تلاش اب تک جاری ہے۔
زولنگن میں ’تنوع کا تہوار‘ کے عنوان سے شہر کی 650 ویں سالگرہ کے حوالے سے تقریبات منائی جا رہی تھیں جب جمعے کی رات کو ایک نامعلوم شخص نے چاقو سے حملہ کر دیا۔ تقریبات کا آغاز جمعے کو ہوا تھا جو اتوار تک جاری رہنا تھیں تاہم حملے کے بعد منسوخ کر دی گئیں۔