امریکی ٹکنالوجی کی مدد سے اسرائیل حزب اللہ کے راکٹوں کا سراغ لگانے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی فوجی حکام نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کی طرف سے اتوار کے روز کیے گئے راکٹ اور ڈرون حملوں کے بیراج آنے کا سراغ لگانے میں امریکی فوج کی مدد سے کامیاب ہوئی۔

امریکی حکام نے یہ بات 'العربیہ' کے ساتھ بات چیت میں کہی۔ تاہم امریکی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کا حزب اللہ کے ان ڈرونز اور راکٹ حملوں کو مار گرانے میں اس سے ہٹ کر کوئی کردار نہیں تھا۔

واضح رہے اتوار کو حزب اللہ نے پچھلے ساڑھے دس ماہ سے اسرائیلی فوج کے ساتھ جاری اپنی جھڑپوں میں سب سے زیادہ شدید جھڑپوں اور حملوں کا تبادلہ کیا ہے۔ اس شدت کا سبب حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کا واقعہ بنا ۔ اسرائیل نے پچھلے ماہ کے اواخر میں فواد شکر کو بیروت میں قتل کیا تھا۔

تین ہفتے بعد حزب اللہ نے اتوار کی صبح اپنے کمانڈر کے قتل کا جواب دیا۔ تاہم ابھی تک اسرائیل کے کسی جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ البتہ پیشگی بنیادوں پر 100 اسرائیلی جیٹ طیاروں کی مدد سے لبنان میں مختلف جگہوں پر کی گئی بمباری سے تین لبنانیوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

امریکی حکام کا اسی بارے میں 'العربیہ ' کو بتانا ہے کہ حزب اللہ کے شدید ترین حملے کو ناکام بنانے کے لیے لبنان کی طرف سے آنے والے 320 تباہ کن کاتیوشہ راکٹوں کے بیراج اور ڈرون طیاروں کے اسرائیل کی طرف آنے کے روٹس کا سراغ لگانے میں امریکہ نے اسرائیل کی مدد کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل میں 11 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

خیال رہے امریکہ اسرائیل کے حق دفاع کو اس خطے میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اس کے لیے اپنی فوج اور جنگی اثاثوں کو بھی علاقے میں موجود رکھتا ہے۔

اسرائیل کا دعوٰی ہے کہ اس کی فوج نے اپنے جیٹ طیاروں کی مدد سے 40 مقامات پر بڑے پیشگی حملوں کے ذریعے حزب اللہ کو اس کے گھر میں نقصان سے دوچار کر دیا اور راکٹ لانچینگ سسٹم کو نشانہ بنایا۔ البتہ حزب اللہ اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں