امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس کیو براؤن کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے قریب المدت خطرات کچھ حد تک کم ہو گئے ہیں تاہم ایران بھی تک بڑا خطرہ بنا ہو اہے کیوں کہ وہ اسرائیل پر حملے پر غور کر رہا ہے۔
براؤن کے مطابق گذشتہ ماہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے تناظر میں ایران حملے کی دھمکی دے رہا ہے اور اس نے اسرائیل کو اس کارروائی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ دوسری جانب تل ابیب حکومت نے اس میں ملوث ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
امریکی جنرل نے مزید کہا کہ "ایران کے جواب کی نوعیت اسرائیلی رد عمل کا تعین کرے گی، پھر اسی بات پر یہ منحصر ہو گا کہ لڑائی کا دائرہ وسیع ہو گا یا نہیں"۔
انھوں نے خبردار کیا کہ عراق اور شام جیسی جگہوں پر ایران نواز مسلح گروپوں کی صورت میں ایک اور خطرہ موجود ہے جو امریکی افواج پر حملہ کرتے ہیں۔ اسی طرح یمن میں حوثی ہیں جو بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بناتے ہیں اور اسرائیل کی سمت ڈرون طیارے بھی بھیجے۔
جنرل براؤن کے مطابق رواں سال 13 اپریل کو اسرائیل پر ایران کے غیر معمولی حملے کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج اسرائیل اور اپنی فورسز کا دفاع کرنے کے حوالے سے اب بہتر پوزیشن میں ہے۔
جنرل چارلس نے زور دے کر کہا کہ "ایرانی فوج جو بھی منصوبہ بندی کرتی رہے، فیصلہ کا اختیار ایران میں سیاسی قیادت کے پاس ہے ... وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں تاہم میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتے جس سے تنازع کا دائرہ وسیع ہو"۔
جنرل براؤن کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کا 3 روزہ دورہ مکمل ہونے کے بعد سامنے آیا۔ وہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر سیکڑوں میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کے چند گھنٹے بعد تل ابیب گئے۔ جواب میں اسرائیلی فوج نے لبنان پر حملے کیے۔
گذشتہ 10 ماہ سے زیادہ عرصے میں اسرائیل لبنان سرحد پر جاری جھڑپوں میں یہ سب سے بڑے تصادم میں سے ایک تھا۔