میٹا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے تقریبا تین برس بعد اعتراف کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2021 میں 'فیس بک' ویب سائٹ پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 'کوویڈ 19' سے متعلق مواد کی نگرانی کرے۔
زکربرگ نے اس دباؤ میں آنے پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی کوششوں کو مسترد کر دیں گے۔ زکربرگ کا یہ موقف امریکی ایوان نمائندگان میں جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ جِم جارڈن کو بھیجے گئے ایک خط میں سامنے آیا۔
Mark Zuckerberg just admitted three things:
— House Judiciary GOP 🇺🇸🇺🇸🇺🇸 (@JudiciaryGOP) August 26, 2024
1. Biden-Harris Admin "pressured" Facebook to censor Americans.
2. Facebook censored Americans.
3. Facebook throttled the Hunter Biden laptop story.
Big win for free speech. pic.twitter.com/ALlbZd9l6K
جوڈیشری کمیٹی کی جانب سے'X' پلیٹ فارم پر جاری خط میں زکر برگ نے خیال ظاہر کیا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے دباؤ کا ڈالا جانا غلط تھا۔ انھوں نے کہا کہ "ہمیں افسوس ہے کہ اس حوالے سے ہم نے زیادہ سچ نہیں بولا"۔
زکر برگ نے مزید کہا کہ "مجھے شدت سے احساس ہے کہ ہمیں کسی بھی انتظامیہ کی جانب دباؤ کے سبب اپنے مواد کے معیار پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے، اگر اس طرح کوئی چیز دوبارہ ہوئی تو ہم رد عمل کے لیے تیار ہیں"۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ 'کوویڈ 19' کے بحران کے دوران میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اس کی بات چیت کا مقصد ویکسین کی مہم کو فروغ دینا اور صحت عامہ کے حوالے سے دیگر امور کی آگاہی پھیلانا تھا۔
امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے گذشتہ ماہ جولائی میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 'فیس بک' نے وائٹ ہاؤس کے دباؤ کے سبب کرونا وائرس کے مصنوعی "اصل" کے بارے میں پوسٹوں کو ہٹا دیا تھا۔