اسرائیلی با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کچھ عرصہ پہلے غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی راستے 'فلاڈلفیا راہ داری' میں اپنی چھوٹی سیکورٹی کابینہ کا اجلاس منعقد کرنے پر غور کیا۔
واضح رہے کہ یہ راہ داری گذشتہ ہفتوں کے دوران میں قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے سے متعلق مذاکرات میں نقطہ اختلاف بن چکی ہے۔
اسرائیلی اخبار " ٹائمز آف اسرائیل" نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیتن یاہو نے امن عامہ کے ادارے "شاباک" کے سربراہ رونین بار سے پوچھا کہ آیا حکومتی وزراء فلاڈلفیا راہ داری میں اجلاس میں شرکت کے لیے بکتربند بسوں میں سفر کر سکتے ہیں۔
اس اجلاس کا مقصد حکومتی ارکان کو نیتن یاہو کے اس مطالبے پر قائم رہنے کی اہمیت باور کرانا ہے۔
تاہم 'شاباک' کے سربراہ نے مطلوبہ بھاری سیکورٹی انتظامات کے سبب اس تجویز کو مسترد کر دیا کیوں کہ جنگ کے علاقے میں اس نوعیت کی سرگرمی غیر معمولی نوعیت کی ہے۔
اسرائیل فلاڈلفیا (صلاح الدین) راہ داری میں اپنی افواج باقی رکھنے کے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے۔ یہ مصر کے ساتھ غزہ کی پٹی کی جنوبی سرحد پر پھیلی ہوئی 14.5 کلو میٹر طویل پٹی ہے۔
مذاکرات کے وساطت کار مصر، قطر اور امریکا نے فلاڈلفیا اور نتساریم کی راہ داریوں میں اسرائیلی افواج کی موجودگی کے متعدد متبادل آپشن پیش کیے ہیں۔
مصری ذرائع کے مطابق اسرائیل اور حماس نے ان میں سے کوئی متبادل قبول نہیں کیا۔