واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں ایرانی ہتھیاروں کو کیسے ناکام بنایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

سات اکتوبر2023ء کے بعد سے مشرق وسطیٰ کا خطہ فوجی کشیدگی کی لہروں کی لپیٹ ہے۔ ایران اور اس سے منسلک ملیشیا نے اپنے اپنے طریقے سے ان کشیدگی کی لہروں میں حسب استطاعت حصہ لیا ہے۔

پچھلے مہینوں کے دوران العربیہ/الحدث نے موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے عہدیداروں سے بات کی۔ امریکی حکام کا مقصد استحکام حاصل کرنا، کشیدگی کم کرنا، اور فریقین کو جنگ کو توسیع دینے سے روکنا تھا۔

ڈپلومیسی اور طاقت کا استعمال ایک ساتھ

گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی کہ امریکہ ایران اور اس کی وفادار ملیشیاؤں کو قطعی طور پر روکنے میں کامیاب رہا ہے، خاص طور پر چونکہ مشرق وسطیٰ کے واقعات ایک مختلف حقیقت کا اظہار کرتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے سفارت کاری کے ذریعے خاص طور پر فوجی موجودگی کے ساتھ کشیدگی کو گریز کیا ہے۔

امریکیوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی نے بیروت میں حزب اللہ کے سینیر رہ نما فواد شکر تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد خطے کوآگ کے ایندھن میں جھونکنے کی ایرانی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

حوثیوں کا مسئلہ

امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکی منصوبہ مختلف سطحوں تک کامیاب ہوا، کیونکہ ایران نے ہنیہ کے قتل کے بعد کچھ نہیں کیا۔

لیکن یمن میں نتائج مختلف ہیں، جہاں امریکہ پہلے حوثیوں کے حملوں کو پسپا کرنا چاہتا تھا۔ بعد میں اس نے اپنی کارروائیوں کو بڑھایا اور خاص طور پر برطانیہ کے ساتھ مل کر حوثی گروپ کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے تاکہ ان کے میزائل اڈوں کو تباہ کیا جا سکے اور اسے خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی نیویگیشن کے لیے خطرہ بننے سےروکا جا سکے۔

اس تناظر میں ایک امریکی اہلکار نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے صورتحال کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ان کے حملے رکے نہیں ہیں‘۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حوثیوں کےزیادہ تر حملے ناکام ہو جاتے ہیں۔ خطے میں موجود امریکی افواج روزانہ کئی حملوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، لیکن حوثی بیس میں سے ایک حملے میں ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ حوثیوں کو کسی حد تک روکنے میں کامیاب رہا ہے‘‘۔

باب المندب بند نہیں ہوئی

حوثیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی نیویگیشن کے لیے خطرہ ہیں، لیکن امریکہ خطے میں اپنی فوج کی مستقل موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ حوثیوں کے حملوں کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حوثیوں کے پاس صلاحیتیں ہیں اور ہمارے پاس زیادہ صلاحیتیں ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے پاس بین الاقوامی نیویگیشن کی حفاظت کا عزم ہے"۔

امریکی ہمیشہ کہتے ہیں وہ حوثیوں کی صلاحیتوں کو ختم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حوثی ملیشیا کی کچھ صلاحیتوں کو کم کیا گیا ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی حوثیوں کے بنیادی منصوبے کو ناکام بنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کا بنیادی ہدف تزویراتی باب المندب کو بند کرنا ہے، لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ وہ اپنے عظیم اور اعلانیہ عزائم کو حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے سینکڑوں کوششوں میں سے صرف کچھ حملوں میں ہی کامیابی حاصل کی۔ وہ اسرائیل پر حملے میں ناکام رہے ہیں.

امریکی برتری

اس کے علاوہ امریکیوں نے ایک ہی وقت میں ایران، حوثیوں اور حزب اللہ کے خلاف ایک اور کامیابی حاصل کی۔

وہ تہران کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہو گئے کہ اس کے میزائلوں کے ہتھیار بڑے ہونے کے باوجود تباہ کن ثابت نہیں ہوں گے۔ امریکہ فوجیوں، امریکی مفادات، پڑوسی ممالک یا اسرائیل پر کسی بھی ایرانی حملے کو ناکام بنا سکے گا۔

امریکیوں نے کہا کہ انہوں نے حوثیوں کو اتنا نقصان پہنچایا کہ یمنی گروپ مہینوں تک بڑے پیمانے پر اور "پیچیدہ" حملہ کرنے میں ناکام رہا۔

اس سال کے آغاز میں حوثی ڈرونز، میزائل اور دھماکہ خیز کشتیاں چلا رہے تھے۔ بہت سے معاملات میں انہوں نے یہ سب ایک ہی وقت میں ایک پیچیدہ آپریشن میں کیا۔

اب امریکیوں کو اطمینان کا احساس ہے کیونکہ حوثی مہینوں سے ان میں سے کوئی بھی خطرناک حملہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بہت سے ریڈار اور میزائل بردار جہاز تباہ کر دیے ہیں۔ اب وہ یمنی سرزمین پر جاسوسی کی بڑی صلاحیتیں تعینات کر رہے ہیں۔ وہ حملے کے لیے حوثیوں کی تیاریوں کا پتہ لگانے اور حملہ شروع ہونے سے پہلے لانچنگ پیڈ پر حملہ کرنے کے قابل ہیں۔

حزب اللہ کو ناکام بنانا

جہاں لبنانی حزب اللہ کے اسرائیل پر "وسیع پیمانے پر" حملے روکے جانے کا تعلق ہے یہ امریکی برتری کی ایک اور مثال ہے۔ امریکی اس بات سے بالکل انکار نہیں کرتے کہ اسرائیل کے پاس خطرات کا اندازہ لگانے اور اپنی سرزمین پر حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھنے والا جدید انفراسٹرکچر ہے، لیکن مشرقی بحیرہ روم میں امریکی کردار حزب اللہ کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں واضح طور پر کار گر ثابت ہوا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ترجمانوں نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیلیوں کو حزب اللہ کی تیاریوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اور اس سے اسرائیلیوں کو واضح تصویر فراہم کی گئی ہے کہ حزب اللہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ان میں میزائلوں کے مقامات، کہاں سے داغنے کا ارادہ رکھتی جیسی تفصیلات تھیں۔ ان تفصیلات اسرائیل کے لیے "قبل از وقت حملہ" آسان بنا دیا۔

امریکی اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ انہوں نے حزب اللہ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ امریکہ نے بحری افواج مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں جمع کیں، پھرانہیں ساحلوں تک پہنچایا۔

امریکی بحریہ کی اس تیاری اور بہت سے امریکی لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی موجودگی نے امریکیوں کے اندازے کے مطابق حزب اللہ کے حملے کو وقت پر محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں