اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات بہتر حالت میں نہیں ہیں۔
بائیڈن کا نیتن یاہو پر عدم اطمینان کل ایک صحافی کے اس سوال کے جواب کے دوران واضح ہوا کہ جس میں اس نے پوچھا کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم سات اکتوبر2023ء سے غزہ کی پٹی میں زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں؟۔ اس پر بائیڈن نے لگی لپٹی رکھے بغیر سادہ اور مختصر الفاظ میں کہا "نہیں"۔
Maximum pressure should be put on Hamas. pic.twitter.com/ll92rWUHl3
— Benjamin Netanyahu - בנימין נתניהו (@netanyahu) September 2, 2024
نیتن یاہو سے جب بائیڈن کے تبصروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ امریکی صدر کو چھ قیدیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے بجائےحماس پر دباؤ ڈالنا چاہیے تھا۔
"مزید قتل کرو"
انہوں نے کل شام یروشلم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہاکہ "اب جب کہ یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور ہم سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے؟ ہم سے کہا جا رہا ہے کہ رعایت کریں؟ یہ مطالبات حماس کو کیا پیغام دیتے ہیں؟ پیغام یہ ہے کہ: مزید یرغمالیوں کو مار ڈالو"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ بائیڈن یا امن کے حصول کے لیے سنجیدہ کوئی بھی شخص اسرائیل سے مزید رعایتیں دینے کے لیے کہے گا۔ رعایت دینے کی بات اب حماس کو کہنی چاہیے"۔
’فلاڈیلفیا سے دستبردار نہیں ہوں گے‘
یہ تنقید اور اس کا ردعمل گذشتہ مہینوں کے دوران دونوں رہ نماؤں کے درمیان تعلقات کی خرابی کے ایک اور اشارے کی علامت ہے۔خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے اور قیدیوں کے تبادلے کےلیے ڈیل میں ناکامی کے بعد امریکہ کی طرف سے اسرائیل پر مزید دباؤ کا اشارہ ہے۔
چونکہ نیتن یاہو نے کل اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ غزہ اور مصر کے درمیان فلاڈیلفیا کوریڈور سے افواج کو نہیں نکالیں گے۔ یہ کوریڈور بات چیت کے پچھلے ادوار کے دوران ایک ایسی گرہ بن گئی ہے جسےکھولنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔
دریں اثنا باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر اپنی تازہ ترین تجاویز اس بنیاد پر پیش کریں گے کہ اسے جیسا ہے قبول کریں یا مسترد کریں" یعنی اب مزید تاخیر اور وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
یہ الزامات اور ردعمل اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی مظاہرین دوسرے دن کل پیر کوسڑکوں پر نکلے۔ سب سے بڑی ٹریڈ یونین نے حکومت پر معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے ایک عام ہڑتال کا اہتمام کیا تھا۔
اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے خلاف ہزاروں فلسطینی حامی کارکنوں نے نیویارک شہر میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔