امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے بات چیت ابھی جاری ہے۔
صدر بائیڈن نے کہاکہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے اور قیدیوں کی رہائی کے بارے میں "ہم ابھی بھی بات چیت کررہے ہیں"۔
بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے غزہ اور مصر کے درمیان فلاڈیلفیا (صلاح الدین) محور میں اسرائیلی فوج کی موجودگی سے متعلق پوچھے گئے’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "میں نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہا ہوں، لیکن میری ٹیم مصر اور قطر کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔
الرئيس الأميركي جو بايدن في رد على سؤال لمديرة مكتب #قناة_العربية في واشنطن عن تمسك #نتنياهو بمحور فيلادلفي: لا أتفاوض معه بل مع فريقي#العالم_الليلة pic.twitter.com/bk7mDi3SLp
— العربية (@AlArabiya) September 2, 2024
قبل ازیں نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیلی افواج کو غزہ اور مصر کے درمیان سرحد پر فلاڈیلفیا محور (صلاح الدین محور) کا کنٹرول برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے وہ فلاڈیلفیا کے معاملےمیں دباؤ قبول نہیں کریں گے۔
اسرائیلی حکام کی طرف سے غزہ میں چھ قیدیوں کی لاشوں کی بازیابی کے اعلان کے ایک دن بعد ایک ٹیلی ویژن پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ "جنگ کے اہداف کا حصول فلاڈیلفیا کے محور سے گذرتا ہے"۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "فلاڈیلفیا کے محور کا کنٹرول اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مغوی افراد کو غزہ سے باہر منتقل نہ کیا جائے"۔
حماس نے امریکہ، قطر اور مصر کی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات میں غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
چھ قیدیوں کی ہلاکت سے اسرائیل میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ساتھ ہی حکومت کی جانب سے اس معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی پر غصہ ہے۔