پوپ فرانسس کا جکارتہ میں استقلال مسجد کا دورہ، موسمیاتی تبدیلی ایک عام مسئلہ قرار

عالمی حدت سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پوپ فرانسس نے جمعرات کو مسلمانوں اور کیتھولک مسیحیوں کو دعوت دی کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں اور انتہا پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی رہنماؤں پر دباؤ ڈالیں۔ وہ جکارتہ میں جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کا دورہ کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف مذہبی عقائد کی مشترکہ بنیادوں کے بارے میں بات کی۔

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے دورے پر مذہبی اشارات سے بھرپور ایک دن میں پوپ نے قومی امامِ اعلیٰ اور دیگر مقامی مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں زمین پر بڑھتی ہوئی گرمی سے نمٹنے کے لیے "فیصلہ کن اقدام" کا مطالبہ کیا گیا۔

فرانسس اور امامِ اعلیٰ نصرالدین عمر کے باضابطہ دستخط کردہ اعلامیے میں لکھا گیا، "تخلیق صلاحیت کے انسانی استحصال نے موسمیاتی تبدیلی میں کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں قدرتی آفات، عالمی حدت اور غیر متوقع موسمیاتی نمونوں جیسے مختلف تباہ کن نتائج سامنے آئے۔"

انہوں نے کہا، "ہم تمام نیک نیت لوگوں سے مخلصانہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قدرتی ماحول اور اس کے وسائل کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کریں۔"

اعلامیے پر دستخط فرانسس کے استقلال مسجد کے دورے کے دوران ہوئے جو وسطی جکارتہ میں تقریباً نو ہیکٹر (22 ایکڑ) پر محیط ایک گنبد والی عمارت ہے۔ پوپ جمعہ تک انڈونیشیا میں موجود ہوں گے جو ان کے جنوب مشرقی ایشیا اور اوشیانا کے چار ممالک کے 12 روزہ سفر کا حصہ ہے۔

فرانسس نے مسجد کے مرکزی دروازے کے باہر منعقدہ ایک بین المذاہب اجتماع سے بھی خطابب کیا جس کا آغاز ایک نوجوان خاتون کی پرسوز آواز میں قرآنِ پاک کے ایک حصے کی تلاوت کے ساتھ ہوا۔ پوپ نے سڑک کے پار واقع ایک نئی زیر زمین سرنگ کا بار بار حوالہ دیا جو مسجد کو شہر کے کیتھولک کیتھیڈرل سے ملاتی ہے۔

87 سالہ پوپ نے کہا، "دوستی کی سرنگ" کہلانے والا یہ 28 میٹر (90 فٹ) طویل راستہ ایک "فصیح نشان" ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف عقائد کے لوگ کس طرح یکسان بنیادوں کا اشتراک کر سکتے ہیں۔

فرانسس نے کہا، "ہم کہہ سکتے ہیں کہ 'دوستی کی سرنگ' جو 'نیچے' ہے، جو زیرِ زمین گذرتی ہے، وہ تمام مذہبی حساسیتوں کے لیے مشترک ایک بنیاد ہے: خدا سے سامنا ہونے کی جستجو۔"

انہوں نے کہا، "گہرائی سے دیکھنے سے۔۔ پتہ چلتا ہے کہ ہم سب بھائی بہن ہیں، زائرین ہیں، ہم سب خدا کے راستے پر ہیں اس بات سے ماورا کہ ہم میں فرق ہے۔"

ایک مسلم خاتون چتورینی ودوسری اپنے کیتھولک دوست کونی تریاستوتی انائے کے ساتھ بین مذہبی اجتماع میں شریک تھیں۔ ودوسری نے پوپ کو ایک "مثالی شخصیت" قرار دیا جو ایک مثال پیش کرتی ہے کہ "دنیا میں امن سے کیسے رہنا ہے حالانکہ ہم مختلف مذاہب سے ہیں۔"

انڈونیشیا کی 280 ملین آبادی میں سے تقریباً 87 فیصد مسلم جبکہ تقریباً تین فیصد کیتھولک ہیں۔

فرانسس نے اپنی 11 سالہ پاپائیت کے دوران کیتھولک-مسلم مکالمے پر زور دیا ہے اور مسلم رہنماؤں کے ساتھ کئی مشترکہ اعلامیوں پر دستخط کیے ہیں۔ 2019 میں وہ جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنے والے پہلے پوپ تھے جہاں انہوں نے مسجد الازہر کے امامِ اعلیٰ اور شیخ کے ساتھ ایک اعلامیے پر دستخط کیے جسے اکثر سنی اسلام میں اعلیٰ ترین اتھارٹی کہا جاتا ہے۔ پوپ جنہوں نے 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے پر زور دیا تھا، نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کو بھی اپنے پاپائیت کے عہدے کا اہم مرکز بنایا ہے۔

کم از کم 10 ملین افراد پر مشتمل انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے کیونکہ یہ دائمی سیلاب اور اچانک دھنس جانے والی زمین سے نبرد آزما ہے۔ حکومت بورنیو جزیرے پر ایک نیا دارالحکومت نوسنتارا بنا رہی ہے۔

جمعرات کی سہ پہر فرانسس جکارتہ کے ایک کثیر المقاصد سپورٹس کمپلیکس گیلورا بنگ کارنو سٹیڈیم میں ایک کیتھولک اجتماع منائیں گے۔

پوپ کے اجتماع کے لیے احترام کی علامت میں انڈونیشیا کے وزیرِ مذہبی امور نے مقامی نشریاتی اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اس دن روزانہ دوپہر کو مسلم اذان کی نشریات معطل کر دیں اور اس کے بجائے سکرین پر صرف اذان کے الفاظ استعمال کریں۔

جمعے کو پوپ انڈونیشیا سے پاپوا نیو گنی، پھر مشرقی تیمور اور سنگاپور کے لیے روانہ ہوں گے۔ جب 13 ستمبر کو وہ روم واپس پہنچیں گے تو یہ ان کا تقریباً 33,000 کلومیٹر (21,000 میل) کا سفر ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں