غزہ کے حوالے سے معاہدے تک پہنچنے کے لیے جلد مزید خیالات پیش کریں گے : انٹونی بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس لازم ہے کہ وہ بقیہ معاملات حل کریں تا کہ غزہ میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا جا سکے۔

جمعرات کے روز ہیٹی میں ایک پریس بریفنگ میں بلنکن نے بتایا کہ فائر بندی کے معاہدے کے تقریبا 90% حصے پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم بعض اہم امور ابھی تک معلق ہیں جن میں غزہ کی پٹی کے جنوب میں مصر کے ساتھ سرحد پر واقع فلاڈلفیا (صلاح الدین) راہ داری شامل ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی گرفتار شدگان کے تبادلے کے حوالے سے بھی بعض اختلافات ہیں۔

بلنکن نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ دنوں میں "ہم اسرائیل کو اور (قطر اور مصر) حماس کو حل کی نوعیت کے حوالے سے اپنے تینوں کے خیالات پیش کریں گے"۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق فریقین پر لازم ہے کہ وہ ان معلق معاملات کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچیں۔ واشنگٹن آئندہ دنوں میں مذاکرات کی میز پر مزید خیالات پیش کرے گا۔

ادھر حماس تنظیم نے جمعرات کے روز واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے اسرائیل پر "حقیقی دباؤ" ڈالے ... جب کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "جلد معاہدہ طے پانے کا کوئی امکان نہیں"۔

جنگ شروع ہونے کے گیارہ ماہ بعد اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اس وقت نیتن یاہو کو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے معاہدے کرنے کے حوالے سے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان افراد کو سات اکتوبر کے حملے کے دوران میں اغوا کر لیا گیا تھا۔

حماس کے حملے کے دوران میں یرغمال بنائے گئے 251 افراد میں سے 97 ابھی تک غزہ میں ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں سے 33 افراد مر چکے ہیں۔

حماس کے سیاسی دفتر کے رکن اور مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اس کے سربراہ (بائیڈن) اگر واقعتا فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ان کو اسرائیل کے لیے اندھی جانب داری چھوڑنا ہو گی اور نیتن یاہو اور اس کی حکومت پر حقیقی دباؤ ڈالنا ہو گا۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے امریکی چینل "فوکس نیوز" کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ "کوئی قریب ترین معاہدہ نہیں ہے. بدقسمتی سے ہم قریب نہیں ہیں تاہم پوری کوشش کریں گے کہ انھیں ایسا معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کر دیں جو اسی دوران میں ایران کو دوبارہ سے غزہ میں اسلحہ بھیجنے سے روک دے"۔

تاہم امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جون کیربی نے باور کرایا ہے کہ یہ کہنا درست ہے کہ 90% معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اس وقت تفصیلات پر عمل درآمد کا طریقہ بالخصوص قیدیوں کا تبادلہ زیر بحث ہے"۔

نیتن یاہو نے بدھ کے روز بتایا کہ جن امور نے مذاکرات میں پیش رفت کو روکا ہوا ہے ان میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی تعداد شامل ہے جن کو حماس کی جانب سے ہر ایک قیدی کے مقابل رہا کیا جائے گا۔ اسرائیل نے حماس کے مطالبے میں شامل بعض گرفتار شدگان کی رہائی سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے صلاح الدین (فلاڈلفیا) راہ داری سے عدم انخلا کے فیصلے کا مقصد مذاکرات کو ناکام بنانا ہے۔ حماس نے غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی شرط رکھی ہے جب کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں مصری سرحد کے متوازی فلاڈلفیا کی راہ داری میں فوج باقی رکھنے کی ضد پر قائم ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ حماس کو اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایسا کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں