فلسطینی حامی مظاہرہ، ٹورنٹو فلم فیسٹیول کا افتتاح مختصر تعطل کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

شمالی امریکہ کا سب سے بڑا ٹورنٹو فلمی میلہ جمعرات کو بین سٹیلر کی فیملی فلم "نٹ کریکرز" کے ساتھ شروع ہوا۔اس موقع پر مٹھی بھر فلسطینی حامی مظاہرین کی موجودگی سے افتتاحی رات کو فلموں کی نمائش میں معمولی خلل پیدا ہوا۔

چاروں مظاہرین نے پرنسس آف ویلز تھیٹر میں رائل بینک آف کینیڈا کے خلاف نعرے لگائے۔ جیسا کہ غزہ میں جنگ جاری ہے تو اس میلے کے سپانسر کو اسرائیل سے روابط رکھنے والی فرمز میں سرمایہ کاری پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دیگر سامعین نے شور مچایا اور فیسٹیول کے سربراہ کیمرون بیلی نے اس دوران اپنا تعارف جاری رکھا۔ پھر سکیورٹی اہلکار مظاہرین کو باہر لے گئے اور فلم کی نمائش شروع ہوئی جو سات سالوں میں سٹیلر کی پہلی فلم ہے۔

ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ٹی آئی ایف ایف) آسکر بیٹ فلموں اور دنیا کے اعلیٰ پائے کے فنکاروں کی آب و تاب پر مبنی ایک 10 روزہ رنگا رنگ تقریب ہے جس کے آغاز پر اس مختصر احتجاج سے ایک سیاسی جھٹکا لگا۔ (آسکر بیٹ وہ فلمیں ہوتی ہیں جو صرف آسکر ایوارڈ میں نامزدگی حاصل کرنے کے مقصد سے بنائی جاتی ہیں۔)

اس سال تقریب معمول کے مطابق ہو گی جبکہ گذشتہ سال اداکاروں اور مصنفین کی دوہری ہڑتالوں کی وجہ سے اعلیٰ پائے کے فنکار یہاں اپنے کام کی تشہیر نہیں کر سکے تھے۔ اگرچہ 2023 کی فلمیں شوبز کے نمایاں ستاروں سے بھرپور تھیں لیکن سرخ قالین پر استقبالیہ کی روایت یونین پروٹوکول کے مطابق نہ تھی۔

اس بار جینیفر لوپیز، انجلینا جولی، ایلٹن جان، بروس سپرنگسٹن، سلمیٰ ہائیک، کیٹ بلانشیٹ اور نکول کڈمین صرف چند ہی ایسے شوخ و چنچل نام ہیں جن کی کینیڈا کے سب سے بڑے شہر میں نئے پروجیکٹس کی نقاب کشائی کے موقع پر آمد کی توقع ہے۔

بیلی نے اے ایف پی کو بتایا، "ٹورنٹو اپنے سامعین کے جوش و خروش کے لیے مشہور ہے اور جب دنیا کے سب سے بڑے ستارے یہاں ہوتے ہیں تو یہ جوش و خروش عروج پر پہنچ جاتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہمیں خوشی ہے کہ ہم گذشتہ سال کی بعض رکاوٹوں کے بغیر میلہ منعقد کر رہے ہیں حالانکہ مجھے ضرور ایسا لگتا ہے کہ اس وقت کے حالات کے پیشِ نظر ہم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔"

فلم بینوں نے سٹیلر کا پرتپاک استقبال کیا جنہوں نے ہدایت کار ڈیوڈ گورڈن گرین کے ساتھ "نٹ کریکرز" کا تعارف کرایا۔

چھٹیوں پر مبنی کامیڈی فلم شکاگو کے ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کی کہانی بیان کرتی ہے جسے اپنی بہن اور بہنوئی کی موت کے بعد اپنے چار یتیم بھانجوں کی نگہداشت کرنی ہوتی ہے۔

چاروں لڑکے جو حقیقی زندگی میں بھائی ہیں، شہر کے ہوشیار اور مکار شخص یعنی ماموں کے لیے انہیں قابو کرنا کافی مشکل ثابت ہوتا ہے جسے گھر میں سکول کے عجیب و غریب سیشنز، گھر میں جنگلی جانوروں اور غیر متوقع حالات و واقعات سے گذرنا پڑتا ہے جب وہ اپنے بھانجوں کے لیے ایک دائمی گھر بنانے میں مصروف ہوتا ہے۔

سٹیلر تقریب میں ریڈ کارپٹ پر فلم کے بارے میں کہا، "جب میں نے سکرپٹ پڑھا جو بہت دلکش تھا اور خشک نہیں تھا تو مجھے لگا میں ایسا ہی تھا، اور یہ شخص ایسے سفر پر ہے جہاں اسے ایسی چیزیں ملتی ہیں اور وہ اپنے خاندان سے مل جاتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "میرے خیال میں یہ ایک اہم پیغام ہے، خاص طور پر ابھی۔"

ستارے اور موسیقی کی فراوانی

اس کے علاوہ فیسٹیول میں فلموں کے عالمی افتتاح کی بھرپور فہرست میں رون ہاورڈ کی گالاپاگوس جزائر میں بقا کی کشمکش پر مبنی ایک اتنہائی خفیہ فلم "ایڈن" ہے اور ڈریم ورکس اینیمیشن کی تازہ ترین فلم "دی وائلڈ روبوٹ" ہے۔

ایجلینا جولی اپنی تازہ ترین ہدایت کارانہ کوشش "ود آؤٹ بلڈ" کے ساتھ ٹورنٹو آئی ہیں جو 20ویں صدی کے اوائل کی ایک خاندانی اور انتقام پر منبی کہانی ہے جس میں سلمیٰ ہائیک نے اداکاری کی ہے۔

مجموعی طور پر 278 فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

جان اور سپرنگسٹین اپنے رزمیہ کریئر کے بارے میں نئی دستاویزی فلموں کے ساتھ شہر میں وارد ہوں گے۔

اینڈرے بوسیلی، روبی ولیمز، پال انکا اور گلوکار، پروڈیوسر اور فیشن ڈیزائنر فیرل ولیمز کی آمد بھی اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں نئی فلموں کی نمائش کے موقع پر متوقع ہے۔

اور فہرست میں ایک فلم "ان سٹاپ ایبل" بھی شامل ہے جو کالج کے ایک ریسلر (جریل جیروم) کے بارے میں ہے جو دائیں ٹانگ کے بغیر پیشہ ورانہ کھلاڑی بننے کا خواب دیکھتا ہے۔ لوپیز نے لڑکے کی ماں کا کردار ادا کیا ہے۔

ٹی آئی ایف ایف جہاں فلموں کی نمائش عام فلم بینوں کے لیے کھلی ہے، یہ فیسٹیول وینس اور ٹیلورائڈ کے ساتھ فلمی میلوں کی طویل فہرست کا حصہ ہے جس میں آسکر کے مقابلے کے لیے آنے والی کچھ فلمیں پہلے دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ ایونٹ پانچ سے 15 ستمبر تک جاری رہے گا۔

آخری دن پیپلز چوائس ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اسے آسکر کی ایک ابتدائی پیش گوئی کہا جا سکتا ہے کہ کس فلم کو عالمی ایوارڈ ملنے کا امکان ہے مثلاً "نومیڈ لینڈ" اور "گرین بُک" جن کی ٹورنٹو فیسٹیول میں نمائش ہوئی اور بعد میں انہوں نے آسکر بھی جیتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں