اوپیک پلس اتحاد اکتوبر میں طے شدہ تیل کی پیداوار میں اضافے کو ملتوی کرنے پر متفق
پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کی نمائندہ عالمی تنظیم ’اوپیک‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’اوپک پلس‘ اتحاد میں شامل آٹھ ممالک نے نومبر کے آخر تک رضاکارانہ پیداوار میں کمی کو دو ماہ کے لیےمؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
آٹھ ممالک سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قازقستان، الجزائر اور سلطنت عمان شامل ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ ی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "رکن ممالک کی جانب سے اس تجدید اور پختہ عزم کی تصدیق میں آٹھ ممالک نے اضافی رضاکارانہ پیداوار میں کمی کو 2.2 ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ نومبر 2024ء کے اختتام تک دو ماہ کی مدت اس کمی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
جن ممالک کی پیداوار طے شدہ سطح سے تجاوز کر گئی ہے انہوں نے ستمبر 2025 تک تمام اضافی پیداواری مقدار کی تلافی کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔
گذشتہ پیر کو "رائیٹرز" کے ذریعہ کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ اوپیک کی تیل کی پیداوار اگست میں جنوری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی تھی کیونکہ لیبیا کی سپلائی میں خلل ڈالنے والی بدامنی نے تنظیم کے دیگر اراکین اور وسیع تر OPEC+ اتحاد کی جانب سے جاری رضاکارانہ سپلائی میں کٹوتیوں کے اثرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سروے سے پتہ چلتا ہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم OPEC نے گذشتہ ماہ 26.36 ملین بیرل یومیہ پمپ کیا، جو جولائی سے 340,000 بیرل یومیہ کی کمی ہے۔
مرکزی بینک کے کنٹرول کے حوالے سے سیاسی دھڑوں کے درمیان لڑائی کے بعد لیبیا میں برآمدات اور پیداوار میں کمی نے تیل کی قیمتوں کو بڑھانے میں مدد کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے کہ OPEC+ اکتوبر میں شروع ہونے والی منصوبہ بند پیداوار میں اضافے کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
سروے سے پتا چلا ہے کہ لیبیا نے گذشتہ ماہ سپلائی میں سب سے زیادہ نقصان 290,000 بیرل یومیہ کے حساب سے کیا۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ماہ کے اوائل میں شرارہ فیلڈ میں اور مہینے کے آخر تک مزید فیلڈز میں پیداوار میں خلل پڑا، جس سے پیداوار اوسطاً 900,000 بیرل یومیہ رہ گئی۔