پاکستانی نوجوان امریکہ میں یہودیوں پرحملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی محکمہ انصاف کی رپورٹ کے مطابق 20 سالہ پاکستانی نوجوان محمد شاہ زیب کویہودیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں کینیڈا سے گرفتار کیا گیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کے مطابق امریکہ کے اٹارنی جنرل میریک گارلینڈ کا کہنا ہے کہ ’شاہ زیب خان نامی شخص کینیڈا میں رہتا ہے۔ انہوں نے نیویارک آنے کی کوشش کی تھی اور داعش کے نام پر زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو ذبح کرنے کا ہدف کر رکھتا تھا۔‘ شاہ زیب مبینہ طور پر ایک خفیہ ایجنٹ کو بتایا کہ وہ اس لیے نیویارک کو نشانہ بنانا چاہتا ہے کہ وہاں یہودی بہت زیادہ ہیں۔

اٹارنی جنرل میریک گارلینڈ نے کہا کہ ’دوسری کمیونیٹیز کی طرح ملک میں رہنے والے یہودیوں کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی دہشت گرد حملے کا نشانہ بن جائیں گے۔‘

تاہم یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ کینیڈا میں ملزم شاہ زیب خان کو وکیل کی سہولت دستیاب ہے یا نہیں اور ان کو کب امریکہ لایا جائے گا۔ محکمہ انصاف نے آن لائن بیان میں کہا ہے کہ شاہ زیب خان کو 13 ستمبر کو منٹریال کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

رائل کینیڈین پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہودیوں کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی افسوسناک ہے اور کینیڈا میں نفرت پر مبنی ایسی سوچ اور جرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شاہ زیب خان نے گذشتہ سال نومبر سے سوشل میڈیا کی پوسٹس کے ذریعے داعش کے حق میں پروپیگنڈا اور دہشت گرد گروپ کی حمایت کا اظہار کرنا شروع کیا تھا۔

شاہ زیب نے چار ستمبر کو کینیڈا سے امریکہ آنے کے لیے تین مختلف گاڑیاں استعمال کیں۔ اسے کینیڈا کی سرحد سے 12 کلومیٹر اندر گرفتار کیا گیا۔ جرم ثابت ہونے پر شاہ زیب کو 20سال قید ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں