کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دو مشتبہ عسکریت پسند ہلاک

علاقے میں مقامی اسبلی کے انتخابات قریب ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فوج نے پیر کو کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں نے پاکستان کے ساتھ انتہائی متنازعہ سرحد کے ساتھ مقامی انتخابات کی مہم کے دوران دو مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

مسلم اکثریتی کشمیر 1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم شدہ ہے اور دونوں ہمالیائی علاقے پر مکمل حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک عشرے میں پہلی بار مقامی اسمبلی کے انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے جس میں 18 ستمبر سے تین مراحل پر مشتمل پولنگ شروع ہو گی۔

ہندوستانی فوج کی وائٹ نائٹ کور نے کہا کہ نوشہرہ کے جنگلات کے علاقے میں "دو دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا گیا ہے"۔ یہ اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

فوج نے کہا کہ فوجی سامان اور خودکار ہتھیار ضبط کر لیے گئے۔

اس خطے میں تقریباً 500,000 ہندوستانی فوجی تعینات ہیں جو 35 سال سے جاری شورش سے لڑ رہے ہیں جس میں 1989 سے اب تک دسیوں ہزار شہری، فوجی اور باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ علاقہ 2019 سے منتخب حکومت کے بغیر ہے جب اس کی جزوی خود مختاری کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے منسوخ کر دیا اور اسے نئی دہلی کی براہِ راست حکمرانی میں دے دیا تھا۔

کل آٹھ اعشاریہ سات ملین افراد خطے کی اسمبلی کے لیے ووٹ دینے کے اہل ہوں گے جس کے نتائج آٹھ اکتوبر کو متوقع ہیں۔

ووٹ سے پہلے مودی سے توقع ہے کہ وہ اپنی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے اس خطے کے جنوبی جموں کے علاقوں میں ریلیوں سے خطاب کریں گے جہاں کافی ہندو آبادی ہے۔

شورش زدہ علاقے میں باغی گروپ کئی عشروں سے ہندوستانی افواج سے لڑ رہے ہیں جو آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

گذشتہ دو سالوں میں باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 50 سے زیادہ فوجی مارے گئے جن میں سے زیادہ تر ضلع جموں میں تھے۔

بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے عسکریت پسندی اور جاسوسی کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس حریف خطے پر کنٹرول کے لیے جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں