گذشتہ ماہ انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی صدارتی انتخابات کے دونوں امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کی انتخابی مہموں کو ایرانی ہیکروں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں اب امریکا میں وفاقی حکام آئندہ چند روز میں مجرمانہ الزامات عائد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس معاملے سے با خبر ذمے داران کے مطابق گذشتہ عرصے کے دوران میں امریکی ایف بی آئی کی تحقیقات میں ایک مشکوک شخصیت "روبرٹ" پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ یہ شخص انٹرنیٹ کے ذریعے سرگرم رہا ہے۔
اس شخص نے امریکی رپورٹروں سے رابطہ کیا اور ٹرمپ کی انتخابی مہم سے اِفشا ہونے والی دستاویزات ان کے حوالے کیں۔
اسی طرح اس نے دو اخبارات "واشنگٹن پوسٹ" اور "پولیٹیکو" کے کئی صحافیوں کو بعض ای میلیں بھیجیں۔
اس کے ساتھ ساتھ تحقیق کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ شخص یا وہ اشخاص جنھوں نے خود کو 'روبرٹ' ظاہر کیا، یہ لوگ ایرانی حکومت کی طرف سے کام کر رہے تھے۔ یہ لوگ ٹرمپ کے مشیروں کے ای میل اکاؤنٹوں سے معلومات چرا کر صحافتی اداروں کو پیش کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکی وزارت انصاف کے ذمے داران کے پاس اس ہیکنگ اور معلومات افشا کیے جانے کے حوالے سے کافی شواہد جمع ہو چکے ہیں۔ یہ بات آج جمعے کے روز امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے بتائی۔
اس سے قبل امریکی ایف بی آئی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے گذشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ ٹرمپ، بائیڈن اور کملا کی صدارتی انتخابی مہموں میں مداخلت کا ذمے دار ایران ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ دہائی کے دوران میں امریکی ذمے داران نے اس امید کے ساتھ روس، چین، ایران اور شمالی کوریا میں ہیکروں کے خلاف کئی مہموں کا آغاز کیا تھا کہ یہ اس رجحان کو روکنے میں مدد گار ہوں گی۔