بھارت میں سام سنگ کے ملازمین کا احتجاجی مارچ،100 کارکنوں سمیت یونین رہنما گرفتار

ملازمین کا بہتر اجرت، مزدور یونین کی منظوری اور کام کے بہتر اوقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ بھارتی پولیس نے جنوبی بھارت میں سام سنگ الیکٹرانکس پلانٹ میں کم اجرت کے خلاف احتجاج کرنے والے تقریباً 100 ہڑتالی کارکنان اور یونین رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے کیونکہ وہ پیر کو بلا اجازت مارچ کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

یہ حراست ریاست تامل ناڈو میں چنئی شہر کے قریب سام سنگ کی گھریلو مصنوعات کے پلانٹ میں کارکنان کی ہڑتال میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مزدور زیادہ اجرت چاہتے ہیں اور انہوں نے سات دنوں تک کام کا بائیکاٹ کیا ہے جس سے پیداوار میں خلل پیدا ہوا جو بھارت میں سام سنگ کی سالانہ 12 بلین ڈالر آمدنی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔

ضلع کانچی پورم کے ایک سینئر پولیس اہلکار سنکر گنیش نے رائٹرز کو بغیر کسی وضاحت کے ٹیلی فون پر بتایا کہ تقریباً 100 کارکنان "احتیاطی گرفتاری" کے تحت زیرِ حراست تھے۔

ایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ گرفتاریاں احتجاجی مارچ کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کی گئیں۔

سام سنگ نے تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مزدور گذشتہ ہفتے سے پلانٹ کے قریب ایک عارضی خیمے پر احتجاج کر رہے ہیں جن کا بہتر اجرت، مزدور گروپ سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونین (سی آئی ٹی یو) کی حمایت یافتہ یونین کی منظوری اور کام کے بہتر اوقات کا مطالبہ ہے۔

سام سنگ بیرونی مزدور گروپ کی حمایت یافتہ کسی یونین کو تسلیم کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔

سی آئی ٹی یو کے ایک یونین لیڈر اے جینیتن نے رائٹرز کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ایک سینئر لیڈر ای متھو کمار کو بھی حراست میں لے لیا جو سام سنگ کے احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا، "کارکنان سے کہا گیا ہے کہ وہ (ہڑتالی) خیمے میں واپس آ جائیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں