بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کئی دہائیوں بعد متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے لیے جمعرات کے روز پہنچے۔
متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں پچھلے تقریباً 35 برسوں سے بھارت سے آزادی اور علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ اس دوران بھارت نے مسلسل کشمیر کو فوجی تسلط میں رکھا ہوا ہے اور بھارتی فوج کشمیر میں لگاتار کشمیریوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ہزاروں کو ہی جیلوں میں بند کیا ہے۔
اس آزادی کی تحریک کو زک پہنچانے کے لیے بد ترین فوجی آپریشنوں کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے کشمیریوں کو تقریباً تمام قانونی اور بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔
بعدازاں پانچ اگست 2019 کو مودی سرکار نے آئین میں دیے گئے اہل کشمیر کے حقوق بھی ان سے چھین لیے اور آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا۔ یہ کشمیریوں کو انسانی حقوق سے محرومی کی ایک اور بڑی یلغار کر کے کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاؤن سمیت ہر طرح کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں عملاً ممنوع قرار دے دیں۔
کشمیری قیادت کو جیلوں میں قید اور نظر بند کر دیا ۔ ہزاروں سیاسی کارکن اپنے حقوق سے محروم ہو گئے۔ اس صورت حال نے اہل کشمیر کو بھارتی سرکار سے اور زیادہ دور کر دیا۔
کیونکہ بھارتی سرکار نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کشمیریوں کو روز گار سے محروم کیا۔ ان کی املاک تباہ کرنے علاوہ قبضے کی ایک سکیم شروع کی اور کشمیر میں کشمیریوں کی آبادی کا تناسب کم کرنے کے لیے ہندوستان سے انتہا پسند ہندوؤں کو لا کر بسانا شروع کر دیا۔
اب اسی ماحول میں کئی برسوں کے بعد ایک بھارتی وزیر اعظم جمعرات کو سرینگر پہنچا تو بد ترین سیکورٹی انتظام اور سخت فوجی پہرے کا اہتمام تھا۔ جگہ جگہ سڑکوں اور چوراہوں پر خار دار تاریں بچھا کر مقامی لوگوں کو مودی سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار نہ کر دیں۔ ہر طرف فوجی چیک پوائنٹس بنائے گئے تھے اور شہر میں فوجی و دیگر سیکورٹی اداروں کی نفری غیر معمولی طور پر بڑھا دی گئی تھی۔ شہر کا کاروباری مرکز جہاں مودی نے اپنی پارٹی ' بی جے پی ' کی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا وہاں دور تک سیکورٹی فورسز کی نفری تعینات تھی اور سنائپرز کھڑے کیے گئے تھے۔
سیکیورٹی کے ان خوفناک انتظامات کے باوجود مودی اپنی تقریر میں فاتحانہ انداز میں کہہ رہے تھے 'ہم نے پارلیمان میں کہا تھا کہ ہم ہی امن بحال کریں گے۔'
دہائیوں بعد ہونے والے انتخابات کے لیے شیڈول اس طرح جاری کیا گیا ہے کہ پولنگ 25 ستمبر سے یکم اکتبور تک رہے گی۔ جبکہ انتخابی نتائج کا اعلان 8 اکتبور کو ہوگا۔
-
حزب اللہ کے قبضے میں پھٹنے والی ’پیجر‘ ڈیوائسز کس نے ایجاد کیں؟
منگل بدھ کے روز لبنان میں حزب اللہ کے زیراستعمال پیجرز ڈیوائسز کے دھماکوں سے لرز ...
ایڈیٹر کی پسند -
کیا اسمارٹ فونز اور دیگر وائرلیس آلات دھماکے سے پھٹ سکتے ہیں؟
لبنان میں کل، بدھ کو ریڈیو کمیونیکیشن ڈیوائس کے دھماکوں کی دوسری لہر دیکھی گئی۔ ...
ایڈیٹر کی پسند -
اسرائیل کی لبنان پر جیٹ طیاروں اور توپ خانے سے گولہ باری
اسرائیل نے لبنان میں پیجر حملوں کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان کی طرف بدھ اور جمعرات کی ...
مشرق وسطی