اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے گذشتہ چند گھنٹوں میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔ اس دوران میں سیکڑوں راکٹ لانچروں کو نقصان پہنچایا گیا جو فوری طور پر اسرائیل کی سمت راکٹ داغنے کے لیے تیار تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق وہ ملک کے دفاع کی خاطر حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا کام جاری رکھے گی۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمکان کیرین جان پیئر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جارحیت روکنے کے لیے سفارتی حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
الكاتب السياسي بشارة شربل: عدم تطرق #نصرالله للرد على تفجيرات #البيجر يؤكد عدم قدرة الحزب على مواجهة #إسرائيل #العالم_الليلة #لبنان #قناة_العربية pic.twitter.com/SSXHplS0eE
— العربية (@AlArabiya) September 20, 2024
کیرین کے مطابق صدر بائیڈن اس حوالے سے پُر امید ہیں کہ اب بھی حل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے لبنانیوں کے نام اپنے خطاب میں کہا ہے کہ سفارتی راستہ ابھی تک موجود ہے۔ مزید یہ کہ حزب اللہ کے عناصر کے زیر استعمال مواصلاتی آلات کے دھماکوں کے بعد وسیع جنگ چھڑ جانے کے اندیشے بڑھ جانے کے باوجود بڑی جنگ کوئی حتمی امر نہیں ہے۔
إيطالية حسناء ربما أوقعت #حزب_الله في الفخ المتفجر.. معلومات عن مديرة الشركة المسؤولة عن إرسال أجهزة البيجر إلى #لبنان#قناة_العربية#العالم_الليلة pic.twitter.com/WBN3FTfsBq
— العربية (@AlArabiya) September 20, 2024
فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ لبنانیوں کو درپیش خطرات کا سامنا کرنے کے لیے ملک کے صدر کا انتخاب ضروری ہے۔ انھوں نے سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے مواصلاتی آلات کے دھماکوں میں 37 افراد کے ہلاک اور تقریبا تین ہزار کے زخمی ہونے کے بعد لبنان میں کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے برطانوی شہریوں پر زور دیا کہ وہ لبنان سے کوچ کر جائیں کیوں کہ موجودہ پیش رفت کی روشنی میں صورت حال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
ادھر اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے مزید فوجیوں کی شمالی محاذ پر منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیل میں گذشتہ رات کے اثنا کئی مقامی شہریوں کو تنبیہی پیغامات موصول ہوئے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر خوف و ہراس پھیل گیا۔ پیغام میں لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات جعلی ہیں کیوں کہ ان کی یا کسی اور ذمے دار کی جانب سے یہ جاری نہیں ہوئے۔