جوبائیڈن پھر بھول گئے، نریندر مودی کا نام یاد نہ رہنے پر شرمسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے بزرگ صدر جوبائیڈن کی نام بھول جانے کی عادت برقرار ہے۔ اب کی بار وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھول گئے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اکثر سیاستدانوں اور صحافیوں کے ہجوم کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرتے ہیں۔

ڈیلاویئر میں پریس کانفرنس میں شرکت کے دوران کواڈ لیڈروں کی میٹنگ کے دوران بائیڈن تذبذب کا شکار نظر آئے۔جب وہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا تعارف کروانے لگےتو ان کا نام بھول گئے۔ صدر بائیڈن نام لینے کےبجائے اونچی آواز میں بولے کہ "آگے کس کی باری ہے؟"۔

تقریب کے دوران بائیڈن اور مودی کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انٹونی البانی اور جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدہ نے انڈو پیسیفک خطے میں کینسر کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کینسر مون شاٹ اقدام کا آغاز کیا۔

جب بائیڈن مودی کا نام بھول گئے تھے تقریب کے کوآرڈینیٹر نے بھارتی وزیر اعظم کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچایا۔

نسیان معمول بن گیا

پچھلے کچھ عرصے کے دوران بائیڈن کو اسی طرح کے کئی واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جیسا کہ وہ کچھ مواقع پر منجمد ہوتے ہوئے نظر آئے۔

امریکہ کے 81 سالہ صدر کی ذہنی حالت پر بہت سے لوگ تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے الفاظ میں کئی بار ٹھوکر کھا چکے ہیں۔

اس سال جولائی میں بائیڈن نے واشنگٹن میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے غلطی سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو روسی صدر ولادیمیر پوتین کہہ دیا۔

اپنے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پہلے صدارتی مباحثے کے دوران ان کی کارکردگی بھی بار بار ہکلانے کے بعد کافی تنقید کا نشانہ بنی۔

اس سے ان کی دوبارہ صدارتی دوڑ میں شرکت کی صلاحیت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے ہو گئے۔ ڈیموکریٹس کے مسلسل دباؤ کے بعد بالآخر بائیڈن صدارتی الیکشن کی دوڑ سے باہر ہوگئے اور اپنی جگہ نائب صدر کملا ہیرس کا نام تجویز کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں