مصر سے صومالیہ اسلحہ منتقلی کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری بحری جنگی جہاز نے اسلحہ کی دوسری کھیپ صومالیہ پہنچا دی ہے۔ اس اسلحے میں طیارہ شکن توپیں اور دوسرا توپ خانہ موجود تھا۔ بندرگاہ کے حکام نے یہ بات پیر کے روز بتائی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ صومالیہ اور ایتھوپیا کے درمیان تازہ خرابی کے پیش نظر یہ پیش رفت ہوئی ہے۔ مصر اور صومالیہ کے درمیان اسی سال کچھ معاہدات طے پائے تھے۔ جب ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان تناؤ کی اطلاعات سامنے آنا شروع ہوئی تھیں۔

گاہے بگاہے اس سے پہلے بھی ان معاہدات کے نتیجے میں صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو کو اسلحے کی کئی کھیپیں بھجوائی تھیں۔ جو متعدد جہازوں کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔

اسلحے کی یہ منتقلی اگست میں ہونے والے مصر اور صومالیہ کے دو طرفہ معاہدے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

ایتھوپیا نے صومالیہ پر اس وقت ناراضگی کا اظہار کیا تھا جب صومالیہ نے اپنی زمین بندرگاہ کے لیے دی تھیں۔

واضح رہے مصر پچھلے کئی برسوں سے ایتھوپیا سے ناراض رہا ہے۔ حتیٰ کہ عدیس ابابا میں ایک بڑے ہائیڈرو ڈیم کی دریائے نیل پر تعمیر کی وجہ سے بھی ناراض ہے۔

مصر نے صومالیہ کی زمین کے حوالے سے ایتھوپیا کے معاہدے کی بھی مذمت کی ہے۔

بندرگاہ کے ذرائع کا کہنا ہے مصری بحری جنگی جہاز نے صومالیہ کے لیے اسلحہ اتوار کے روز سے جہاز سے اتارنا شروع کیا۔

علاوہ ازیں سفارتی و سلامتی سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحہ اتارتے ہوئے اتوار اور پیر کے روز اردگرد کے راستوں کو بند کر دیا گیا اور اس کے بعد صومالیہ کی وزارت دفاع کے قریبی مرکز میں منتقل کیا گیا۔

نصرہ بشیر علی جو صومالیہ کے وزیراعظم حمزہ عابدی کے دفتر سے متعلق ہیں ، 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ وزیر دفاع عبد القادر محمد نور کے مطابق جہاز سے اسلحہ اتارا جا چکا ہے۔

مصری حکام نے اس سلسلے میں تبصرے سے انکار کیا ہے۔ خیال رہے ایتھوپیا کے 3 ہزار سپاہی افریقی یونین امن مشن کے تحت صومالیہ میں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں