قرآن جلانے کے واقعے کے خلاف احتجاج میں ایران ملوث ہے ، سویڈش پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سویڈن کے پراسیکیوٹر نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ 2023 میں ہیکنگ کی کارروائی میں ایرانی خفیہ ادارے ملوث تھے۔ جو سویڈن میں مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن مجید کو نذر آتش کیے جانے کی کارروائی کے خلاف جوابی کارروائی کے طور پر کرائی تھی۔

پراسیکیوٹر نے یہ الزام منگل کے روز لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ہیکنگ سے متعلق ایک ایس ایم ایس آپریٹر نے لوگوں کو پیغام بھجوائے۔ جن میں ابھارا گیا تھا کہ وہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کا انتقام لیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق اس طرح کے 15 ہزار پیغام قرآن کو جلانے کے خلاف موصول ہوئے۔ جو 2023 کے موسم گرما میں قرآن پاک کو جلائے جانے کے واقعے کے خلاف احتجاج کا باعث بنا تھا۔

سویڈن پراسیکیوٹر نے قرآن مجید کو جلائے جانے کے واقعے پر ردعمل ظاہر کرنے کو سویڈش سوسائٹی کو تقسیم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

علاوہ ازیں 'ساکو' کے سربراہ فیڈرک ہیل سٹوم نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں بتایا ہے کہ ایک ہیکر گروپ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی وجہ سے ایسا کیا اور قرآن سوزی کے خلاف ایک مہم بھی چلائی۔ اس مہم کا نتیجہ یہ ظاہر کرنا تھا کہ سویڈن ایک اسلام دشمن ملک ہے۔ اس لیے اس کے ہاں قرآن مجید کو جلایا جاتا ہے۔

یکم اگست 2023 کو سویڈش میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں سویڈش کے رہنے والے لوگوں کو ایک ٹیکسٹ میسج کیا گیا جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ قرآن کے جلانے کے واقعے کے مرتکب افراد کو انتقام کا نشانہ بنائیں۔ جنھوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو جلایا ہے۔

سویڈش پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق بعدازاں تحقیقات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ 'آنزو' نامی ادارے کی ٹیم اس ساری کارروائی کے پیچھے تھی۔ جو لوگوں کو قرآن جلانے والوں کے خلاف گرمی دلا رہی تھی۔

پراسیکیوٹر کے مطابق تب سے یہ ٹیم غیر ملکی طاقتوں کے کہنے پر ایسا کر رہی ہے اور ہمارے خیال میں یہ غیر ملکی طاقت ایران کی ہے۔

پچھلے سال اگست کے مہینے میں سویڈش اینٹیلی جنس کے ادارے نے ایک ایسے خطرے کا پتا چلایا جو احتجاجی کارکنوں نے سویڈن کو اپنے احتجاج کے لیے ایک ترجیحی ملک کے طور پر رکھا تھا ۔ جس کی وجہ سویڈن میں قرآن پاک جلائے جانے کے واقعات کے خلاف ردعمل تھا۔

احتجاج کے اس واقعے نے سویڈن اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں تعلقات میں برا اثر ڈالا۔ عراق میں احتجاجی مظاہرین نے سویڈش سفارتخانے پر دو بار احتجاج کیا۔

سویڈش حکومت نے قرآن جلانے کے خلاف احتجاجی کوششوں اور حوصلہ افزائی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سویڈن میں آزادی اظہار کی میسر آزادی کے خلاف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں