حزب اللہ کے زیر انتظام میڈیا کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسرائیل نے بعلبک کو شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے جب کہ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بیروت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ العربیہ کی نمائندہ کے مطابق بیروت اور صیدا کے بیچ واقع علاقے السعدیات پر شدید حملہ کیا گیا۔ اس دوران میں گاڑیوں کی مرمت کے ایک بڑے ورکشاپ کو نشانہ بنایا گیا جس کا مالک حزب اللہ کا ایک رکن ہے۔
لبنانی میڈیا نے بتایا ہے کہ بیروت کے جنوب میں الجیہ کے ساحلی ٹاؤن پر بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ایمبولینس کی گاڑیوں کو وہاں جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس سے قبل منگل کے روز اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق تنظیم نے جواب میں شمالی اسرائیل کے علاقوں پر کم از کم 400 راکٹ داغے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز حزب اللہ کی جانب سے تقریبا 300 راکٹ داغے گئے۔
إعلام لبناني: انفجارات في منطقة الجية جنوب #بيروت #قناة_العربيةَ pic.twitter.com/wlfNFxS066
— العربية (@AlArabiya) September 24, 2024
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور اہداف کو ویسع پیمانے پر بم باری کا نشانہ بنا رہی ہے۔
ادھر حزب اللہ نے منگل کے روز شمالی اسرائیل میں صفد کے نزدیک ایک فوجی اڈے پر 90 راکٹ داغنے کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ کیبوتس ہگوشریم اور کاتسرین پر بھی حملے کیے گئے۔ حزب اللہ نے حیفا کے جنوب میں اسرائیلی بحریہ کے زیر انتظام عتلیت کے اڈے کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا۔
اس سے قبل لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ پیر کی صبح سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک شدگان کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے۔ مرنے والوں میں 50 بچے اور 94 خواتین شامل ہیں۔ نگراں حکومت کے وزیر صحت فراس الابیض نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اس عرصے میں 1835 افراد زخمی بھی ہوئے جن کو لبنان کے 54 ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ الابیض کے مطابق ہلاک شدگان میں چار طبی کارکنان اور زخمیوں میں 16 طبی کارکنان شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے سبب لبنان کے جنوبی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ٹھکانہ میسر نہ آنے کے سبب سڑکوں کے کنارے اور گاڑیوں میں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے گھرانے فٹ پاتھ اور عوامی پارکوں میں زمینوں پر بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔
اس سلسلے میں کئی علاقوں میں سول سوسائٹی کے ارکان نے نقل مکانی کرنے والوں کو پناہ دینے کے لیے اسکولوں اور گھروں میں بندوبست کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسی طرح روٹی کے تندوروں اور ایندھن کے اسٹیشنوں پر لوگوں کی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ ادھر الشرق الاوسط ایئرویز کے سوا تمام فضائی کمپنیوں نے بیروت آمد و رفت کی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔
اقوام متحدہ نے منگل کے روز لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے بیچ عسکری جارحیت کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ پیر کے روز سے جاری حملوں کے سبب لاکھوں افراد راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین کے ترجمان میتھیو سالٹمارش نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "ہم گذشتہ روز حملوں میں خطرناک حد تک اضافے پر نہایت تشویش رکھتے ہیں۔ لاکھوں افراد کل اور آج کی رات اپنے گھروں سے کوچ کر جانے پر مجبور ہو گئے۔ ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے"۔