اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حملوں میں شدت سے مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
گوتیریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے آغاز میں کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان موجودہ کشیدگی "لبنان میں جہنم کے دروازے کھولتی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ"عارضی جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں"۔
گوتیریس نے لبنان کی خودمختاری کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "جنگ کی وجہ سے 90,000 سے زیادہ لوگ جنوبی لبنان سے بے گھر ہوئے ہیں"
تازہ ترین فیلڈ پیش رفت میں اسرائیلی فوج نے بدھ کی شام کو لبنان میں حزب اللہ کی تنصیبات پر پرتشدد حملوں کی ایک نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا۔
لبنانی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی لبنان کے شہر بیقاع میں ہرمل شہر کے ارد گرد اسرائیلی حملہ ہوا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ تین اسرائیلی حملوں نے مشرقی لبنان کے شہر بعلبک میں نبی شیت قصبے کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ ملک کے جنوب میں ضلع صور کے صنعتی شہر میں ایک گھر پربمباری کی اور دوسرا حملہ مغربی لبنان میں صور حرفا قصبے پر کیا گیا۔
لبنانی وزارت صحت نے بتایا کہ بدھ کے روز مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 72 تک پہنچ گئی اور 392 سے زائد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے اس ہفتے لبنان پر اپنے ایک سال میں سب سے زیادہ تباہ کن فضائی حملے کیے، جس میں حزب اللہ کے رہ نماؤں اور لبنان میں گہرائی کے اند سینکڑوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف حزب اللہ نے اسرائیل پر بڑی تعداد میں مزائل فائر کیے۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر جاری لڑائی کی وجہ سے لبنان کی طرف سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔\
اسرائیل نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان اور وادی ببقاع کو نشانہ بنایا اور اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ شمالی محاذ پر آپریشنل مشن انجام دینے کے لیے ریزرو فورس سے دو بریگیڈوں کو بلائے گی۔