تہران کے ساتھ رابطے کی کڑی، دمشق میں مارا جانے والا حسن قصیر کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ دمشق کے علاقے المزہ میں فضائی حملے میں مارا جانے والا حسن جعفر قصیر ایران، شام اور لبنان کے بیچ رابطے کی کڑی شمار ہوتا تھا۔ امریکی نے اسے "عالمی دہشت گرد" قرار دے چکا ہے۔ حسن قصیر حزب للہ کا اہم کمانڈر اور مالی امور کا ذمے دار تھا۔

دو سال قبل امریکی حکومت کی ایک سرکاری ویب سائٹ نے حسن قصیر کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا تھا۔

حسن قصیر کا پورا نام "حسن جعفر خلیل قصیر" ہے اور وہ "الحاج فادی" کی عرفیت سے جانا جاتا تھا۔ حسن 15 برس سے زیادہ عرصے تک "یونٹ 4400" کے قائد کے طور پر کام کرتا رہا۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق حسن ایران اور اس کے ایجنٹوں سے حربی وسائل اور رقوم لے کر حزب اللہ تک پہنچانے کا ذمے دار تھا۔ اس کے علاوہ وہ حزب اللہ میں اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات کی تجارت جیسی غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افخائی ادرعی کے مطابق حسن قصیر نے حزب اللہ کے گائیڈڈ میزائلوں کے منصوبے کو جدید تر بنانے کے عمل کی نگرانی بھی کی۔ یہ میزائل داخلی محاذوں یا اسرائیل میں دیگر اہدفا کو نشانہ بنانے کے لیے مخصوص تھے۔

امریکا نے حسن قصیر کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا اور پھر 2018 میں اس کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں