ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل غزہ میں "نسل کشی" کی قیمت ادا کرے گا۔ انہوں نے یہ بات سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں جنگ کی پہلی برسی کے موقع پر کہی۔
انہوں نے ایکس پر کہا، "یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسرائیل جلد یا بدیر اس نسل کشی کی قیمت ادا کرے گا جو وہ ایک سال سے کر رہا ہے اور بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔"
حماس سمیت فلسطینی مقصد کے ایک پر زور وکیل ایردوآن نے اکثر اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو "غزہ کا قصائی" قرار دیتے اور ان کا موازنہ نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر سے کرتے ہیں۔
ایردوآن نے کہا، "جس طرح ہٹلر کو انسانیت کے اتحاد نے روکا تھا، نیتن یاہو اور ان کے قتل کے نیٹ ورک کو اسی طرح روکا جائے گا۔ ایسی دنیا جس میں غزہ کی نسل کشی کا کوئی حساب نہ لیا جائے، اسے کبھی امن نہیں ملے گا۔"
ترک رہنما جو اکثر حماس کو آزادی پسندوں کے طور پر سراہتے ہیں، نے کہا کہ ایک سال سے تمام دنیا کی آنکھوں کے سامنے جو قتل عام ہوا ہے، "وہ دراصل پوری انسانیت کا اور مستقبل کے لیے تمام انسانیت کی امیدوں کا قتل ہے۔"
ایردوآن نے غزہ اور اب لبنان میں تنازعات کو روکنے میں بین الاقوامی نظام کی ناکامی پر بھی تنقید کی اور کہا: "اسرائیل کی نسل کشی، قبضے اور یلغار کی دیرینہ پالیسی کو اب ختم ہونا چاہیے۔"
-
ترکی کے وزیرِ خارجہ اور لبنان کے میقاتی کے درمیان فون پر بات ہوئی: وزارت
ترک وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اور لبنان ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں 12 سالہ فلسطینی لڑکا ہلاک
سات اکتوبر کی پہلی برسی کے موقع اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے
مشرق وسطی -
اسرائیلی جارحیت پورے خطے کو لپیٹ میں لے رہی ہے: اردن
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے خبر دار کیا ہے کہ ' اسرائیلی جارحیت پورے خطے ...
مشرق وسطی