ایران کے دو سینئر سیکورٹی ذمے داران نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے بیروت پر اسرائیلی حملوں کے بعد سے پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس سے قبل ایک ایرانی ذمے دار نے تصدیق کی تھی کہ قاآنی بالکل ٹھیک ہیں۔ مذکورہ ذمے داران میں سے ایک نے بتایا کہ جمعرات کے روز ہونے والے حملے کے وقت قاآنی بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ میں موجود تھا۔ اس حملے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں نصر اللہ کے ممکنہ جاں نشیں ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ایرانی ذمے دار نے واضح کیا کہ قآنی نے صفی الدین سے ملاقات نہیں کی تھی۔
ذمے دار کے مطابق اس وقت سے ایران اور حزب اللہ کا قاآنی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
دوسرے سینئر ذمے دار نے بتایا کہ قاآنی نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد لبنان روانہ ہو گیا تھا۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق کمیٹی کے رکن عباس گلرو نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ "بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی بالکل ٹھیک ہیں ... ان دنوں بہت سی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں جن پر توجہ کی ضرورت نہیں"۔
دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے ایک ذریعے نے بعض اسرائیلی میڈیا میں زیر گردش رپورٹوں کی تردید کی تھی جن میں بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملوں میں قاآنی کے زخمی یا ہلاک ہونے یا زیر حراست آنے کا بتایا گیا تھا۔
مذکورہ ذریعے نے دعویٰ کیا تھا کہ قاآنی تہران میں ہے اور وہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے دو روز بعد 29 ستمبر کو ایرانی دار الحکومت میں حزب اللہ کے نمائندے کے دفتر میں نظر آیا تھا۔ ذریعے نے القدس فورس کے کمانڈر کے بیروت جانے کی بھی تردید کی۔
تاہم جمعے کے روز رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے خطبے میں غیر حاضری کے سبب بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔
بعض مبصرین کے نزدیک قاآنی کی عدم شرکت تہران کی جانب سے احتیاطی اقدامات کا حصہ ہے جو وہ اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کے اندیشے کے پیش نظر کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ 67 سالہ اسماعیل قاآنی جنوری 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے القدس فورس کا کمانڈر ہے۔